اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 234

کے اندر رہے گی اور مستقبل میں ملنے والی متوقع دولت کو آج ہی خرچ کرنے کا رجحان خود بخود ختم ہو جائے گا۔جو صنعت ایسی معاشی بنیادوں پر قائم ہوگی وہ لازماً ٹھوس اور مضبوط ہو گی اور اس میں ہر قسم کے اقتصادی نشیب و فراز میں سے ا صحیح سلامت بیچ نکلنے کی صلاحیت بھی موجود ہوگی۔مختصراً یہ کہ عوام کا سرمایہ امراء کے ہاں گردش میں نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس کا بہاؤ غرباء کی طرف ہونا چاہئے۔اسلام ایک سادہ طرز زندگی کو فروغ دیتا ہے کفایت شعاری اور جفا کشی سکھاتا ہے نہ کہ خشکی اور زندگی کی لذات سے بے زاری۔تا ہم یہ طرز تمدن کسی بھی طرح سے عیاشی فضول خرچی اور ظاہری چمک دمک کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔نہ ہی اس میں اس حد تک دولت لٹانے کی اجازت ہے جس سے غرباء کی دل شکنی ہو اور وہ حسد کا شکار ہو جائیں اور ان کے دل حسرتوں کی آماجگاہ بن جائیں اور یوں امراء اور غرباء کے مابین فاصلہ اور بھی بڑھ جائے۔معاشی طبقاتی فرق یہ امر اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ دولت کے صرف چند ہاتھوں میں اکٹھا ہو جانے سے معاشرہ میں مختلف طبقات پیدا نہیں ہو جاتے۔طبقات سرمایہ کی اس تقسیم کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں جو مالک اور مزدور، جاگیر دار اور مزارع کے درمیان ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے عوامل ہیں جو طبقاتی اونچ نیچ پیدا کرتے ہیں۔ان سب کا یہاں ذکر کرنا اور یہ بتانا تو ممکن نہیں کہ کس طرح یہ سب عوامل الگ الگ اور مل کر طبقات پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں تاہم بھارت کے مخصوص روایتی معاشرہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ ہزار ہا سال میں پروان چڑھنے والا طبقاتی نظام کس طرح معرض وجود میں آتا ہے۔ارتقاء کے 234