اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 229

مواقع سے ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ اس کا دائرہ ساری انسانی زندگی پر محیط ہے۔اس تعلیم کا حسن یہ ہے کہ اسے جبراً نافذ نہیں کیا جاتا بلکہ لوگوں کو پیار اور محبت کے ساتھ سمجھا کر اس پر عمل کے لئے راغب کیا جاتا ہے۔کھانے پینے میں اعتدال يُبنى آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد وكلوا واشربوا ولا تسرفوا ج انه لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (سورۃ الاعراف آیت ۳۲) ترجمہ :۔اے ابنائے آدم ! ہر مسجد میں اپنی زینت (ساتھ ) لے جایا کرو اور کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔یقیناً وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔دنیا میں بھوک کے خلاف ایک جہاد کی ضرورت ہے۔وقت کی کمی کے باعث اس موضوع پر یہاں تفصیل سے بات نہیں کی جاسکتی تاہم اس سلسلہ میں پہلا قدم تو یہ ہے کہ خوراک کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔اس موضوع پر میں مختصراً آگے چل کر کچھ بیان کروں گا۔قرض کا لین دین اسلام اس امر کی بار بار تاکید کرتا ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی کے لئے اور ہنگامی حالات میں قرض لینا پڑ جائے تو وہ بلا سود یا قرضہ حسنہ کے طور پر ہونا چاہئے۔صاحب استطاعت اور ذی ثروت لوگوں کا فرض ہے کہ وہ مالی مشکلات میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد کریں۔یہ امر بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر کوئی مقروض نا مساعد 229