اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 228

اللہ تعالیٰ کی نظر میں بدترین دعوت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں ایسی دعوتوں میں خوش پوش امراء کے درمیان معمولی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس غرباء بھی نظر آئیں گے جو آزادانہ سب سے مل رہے ہوں گے۔غرباء کو یوں قریب سے دیکھ کر ایک تو امراء کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور دوسرے غرباء کو یہ موقع میسر آتا ہے کہ وہ امراء کے عمدہ کھانوں کا کچھ مزہ اٹھا سکیں۔غرباء کی دعوت قبول کرنا امراء اور سماجی لحاظ سے بلند مرتبہ اور معزز لوگوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ اگر کوئی انتہائی غریب اور مسکین شخص بھی انہیں اپنے گھر دعوت پر بلائے تو انہیں وہ دعوت قبول کرنی چاہئے۔بایں ہمہ اسے لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان کے اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام مصروفیات اور دیگر کئی مشکلات اس میں حارج ہوسکتی ہیں تاہم آنحضرت ﷺ کا یہ دائی دستور تھا کہ آپ غریب ترین شخص کی دعوت کو بھی قبول فرما لیا کرتے تھے۔آپ سے محبت رکھنے والے آپ کے سب غلام جو امیر ہوں یا غریب آپ کی اس نصیحت پر عمل کر کے بے حد خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔اگر چہ آج کے معاشرہ میں ایسی دعوتوں کو اس طرح قبول کرنے سے یہ تاثر بھی ابھر سکتا ہے کہ جیسے امراء کے پاس سوائے دعوتیں کھانے کے اور کوئی کام ہی نہ ہو تا ہم ضروری ہے کہ غرباء کی دعوت کو کبھی کبھی قبول کر کے اس حکم کی روح کو زندہ رکھا جائے۔پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ شراب نوشی اور جوا کو قرآن کریم نے ممنوع قرار دیا ہے۔خوشی کی تقریبات پر دولت لٹانے سے بھی روکا گیا ہے۔بے تحاشا خرچ اور ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ زندگی گزارنے کی جو مذمت کی گئی ہے وہ صرف شادی بیاہ کے 228