اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 227
ترجمہ۔اور قرابت دار کو اس کا حق دے اور مسکین کو بھی اور مسافر کو بھی مگر فضول خرچی نہ کر۔یقیناً فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔شادی و بیاہ کے اخراجات شادی بیاہ کی تقریبات جس انداز سے منعقد کی جاتی ہیں وہ امیر اور غریب خاندانوں کے درمیان ایک حساس مسئلہ بن جاتا ہے۔امراء کے ہاں ہونے والی شان و شوکت دیکھ کر غریب والدین گہرے رنج وغم میں ڈوب جاتے ہیں خصوصاً جن کی بیٹیاں شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہوں ان کے اندر حسرت اور محرومی کی آگ بھڑ کنے ہے۔اسلام نے شادی بیاہ کی دعوتوں پر بے تحاشا خرچ کرنے اور اپنی امارت اور ظاہری شان و شوکت کے مظاہرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ابتدائی تاریخ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ شادی کی تقریبات اس قدر سادہ ہوا کرتی تھیں کہ اکثر لوگوں کو بالکل بے رنگ اور بے رونق دکھائی دیتی تھیں۔اگر چہ دیگر معاشروں کے رسوم ورواج کے زیر اثر مسلمانوں کے ہاں بھی خصوصاً امراء کی شادیوں میں کئی بدعات اور بد رسومات رفتہ رفتہ راہ پاگئی ہیں تاہم اب بھی بنیادی طور پر شادی کی رسمی تقریب بالکل سادہ اور بے تکلف اور امیر وغریب سب کے لئے یکساں طور پر کم خرچ ہے۔شادی کا اعلان جو کہ نکاح کہلاتا ہے اکثر مساجد ہی میں کیا جاتا ہے جہاں ہر کس و ناکس موجود ہوتا ہے امیر وغریب سب بلا امتیاز جمع ہوتے ہیں۔مسجد کسی کی شان وشوکت کے اظہار کی جگہ نہیں ہے بلکہ خدا کا گھر ہے جہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے۔جہاں تک دعوتِ طعام اور شادی کے موقع پر خوشی اور مسرت کے اظہار کا تعلق ہے امراء کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ کوئی ایسی دعوت جس میں غرباء کو نہیں بلایا جاتا۔227