اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 225
ہے۔ہے۔ان اعداد وشمار کی روشنی میں آمد پر ٹیکسوں کا تعین کیا جاتا ہے۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد فرد کے مالی معاملات میں مزید بہت کم مداخلت کی جاتی عام طور پر حکومتوں کی دلچسپی صرف فرد کی آمد تک محدود ہوتی ہے حکومت کو اس سے کچھ سروکار نہیں ہوتا کہ فرد اپنی آمد یا ذخیرہ کی ہوئی دولت کو کس طرح خرچ کرتا ہے۔وہ چاہے تو اپنی دولت کو دریا میں بہا دے اور عیش وعشرت کو اپنا معمول بنالے اور چاہے تو مالی آسودگی کے باوجود تنگی و ترشی سے زندگی بسر کرے۔اپنے سرمائے کو وہ جہاں چاہے اور جس طرح چاہے کام میں لائے ، حکومت اس میں کوئی مداخلت نہیں کرتی۔تا ہم مذہب فرد کی زندگی کے اس حصہ میں بھی نصیحت اور مشورہ کے رنگ میں دخل دیتا ہے۔مذہب صرف یہی نہیں بتاتا کہ روزی کس طرح کمانی چاہیے بلکہ راہنمائی بھی کرتا ہے کہ اپنی کمائی کو کس طرح خرچ کرنا چاہئے اور کس طرح خرچ نہیں کرنا چاہئے۔لیکن یادر ہے کہ دولت کو خرچ کرنے کے متعلق مذہب کے اکثر احکامات بنیادی طور پر اخلاقی اور روحانی فلاح و بہبود کے راہنما اصول ہیں۔مثال کے طور پر جب اسلام شراب نوشی ، جوئے یا حصول لذت کے دیگر ناجائز ذرائع پر خرچ کرنے سے روکتا ہے تو خواہ اس کا براہ راست تعلق بجٹ سے نہ بھی ہو پھر بھی بالواسطہ ایسے احکامات مذہب کی اخلاقی و روحانی تعلیمات کا حصہ ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام میں ایسے احکامات کو فرد کی ذاتی زندگی اور اس کی اپنی مرضی سے خرچ کرنے کے حق میں مداخلت تصور کیا جاتا ہے مگر یادر ہے کہ یہ سوچ اور یہ طرز عمل انسان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔قرآن کریم سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تہذیبوں اور قوموں نے بھی مذہب کے متعلق اس قسم کے طرز عمل کا مظاہرہ کیا تھا۔یہ بحث بار بار اٹھائی گئی کہ مذہب کو لوگوں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کا کیا حق ہے۔قدیم زمانہ میں اللہ 225