اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 224

مثلاً بے تحاشا دولت کا ارتکاز نیز چیزوں اور اجناس وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی جس سے قیمتیں رفتہ رفتہ بڑھتی چلی جاتی ہیں اور عام افراطِ زر اس کا آخری نتیجہ ہوا کرتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بالْبَاطِل وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَالَّذِينَ يَكْبِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ : فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ لا ووه و وہ ووه ووہ ووہ بِهَا جِبَاههم وجنوبهم و ظهورهم ، هَذَا مَا كَنَرْتُمْ لَأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْثِرُونَ ط (سورۃ التوبہ آیات ۳۴-۳۵) ترجمہ :۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقیناً دینی علماء اور راہبوں میں سے بہت ہیں جو لوگوں کے اموال ناجائز طریق پر کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔اور جو لوگ سونا اور چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دے۔جس دن جہنم کی آگ اس (سونے چاندی ) پر بھڑکائی جائے گی پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے اپنی جانوں کے لئے جمع کیا تھا۔پس اسے چکھو جو تم جمع کیا کرتے تھے۔۔اس کے باوجود اسلام نے فرد کو ہر جائز طریق پر دولت کمانے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ یہ طریق اور ذریعہ اسلام کے معاشی ضابطہ اخلاق سے مطابقت رکھتا ہو۔مختصراً یہ کہ اسلام نے فرد کو ذاتی ملکیت اور نجی کاروبار کی اجازت دی ہے اور اس کے اس بنیادی حق کو تسلیم کیا ہے۔حکومتیں معیشت کی تشکیل کے وقت تمام تر توجہ اس امر پر مرکوز رکھتی ہیں کہ معاشرہ کا ایک فرد اپنی روزی کس طرح کماتا ہے اس کی آمدنی کتنی ہے، کاروبار میں منافع کی شرح کیا ہے، بکری کتنی ہوتی ہے، تنخواہ کتنی ملتی 224