اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 217
وہاں صورت حال اور بھی بگڑ جاتی ہے۔چند لمحوں کی شاہ خرچی اور داد عیش کے بعد تنگ دستی کا ایک طویل اور بے کیف زمانہ کاٹنا پڑتا ہے۔حالانکہ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح تنگی ترشی میں گزارہ کر لیں گے۔نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ لا پرواہی سے اور نتائج و عواقب کی پرواہ کئے بغیر مزید قرض لے لیا جاتا ہے اور اس طرح خرچ آمد سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔درحقیقت آنے والے سالہا سال کی کمائی قرض دینے والے بینکوں اور اسی قسم کے دوسرے مالی اداروں کے پاس رہن رکھ دی جاتی ہے۔سودی اقساط کی ادائیگی کا بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل مقروض کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ان حالات میں معیشت بڑی سرعت کے ساتھ خوفناک بحران کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔آخر آپ کب تک اپنے مستقبل کو حال کے پاس رہن رکھ سکتے ہیں۔غیر ذمہ دارانہ اور بے دریغ قسم کی فضول خرچیاں ایک دن لازما رنگ لائیں گی اور آپ ایک زبر دست مالی بحران میں مبتلا ہو جائیں گے۔افراط زر میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔افراط زر کا مقابلہ کرنے کے لئے سود کی شرح میں اضافہ ہوگا اور لوگوں کے پاس خرچ کرنے کو پیسے کم رہ جائیں گے جس کا نتیجہ معاشی تباہی کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔اگر یہ صورت حال ایک ملک تک محدود رہے تو بھی قابل قبول نہیں ہونی چاہئے لیکن جب انہی وجوہات کی بنا پر دنیا بھر کے ممالک معاشی زوال کا شکار ہو جائیں تو پھر عالمی بدحالی کے مہیب سائے بنی نوع انسان کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔یہی اقتصادی بدحالی عالمی جنگوں اور عظیم تباہیوں کا راستہ ہموار کیا کرتی ہے۔لوگ دیوالیہ ہو جاتے ہیں، کاروبار تباہ ہو جاتے ہیں، تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں، بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور پراپرٹی یعنی جائیداد کا کاروبار تباہ ہونے لگتا ہے۔اس ساری صورت حال کے نتیجہ میں چاروں طرف جو 217