اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 210

نے ایک لمبے عرصہ تک سود کی شرح کو خطرناک حد تک بلند کئے رکھا۔ان کے بقول اس کا واحد مقصد نجی سطح پر دولت کے اسراف کو روکنا تھا تا کہ افراط زر پر قابو پایا جاسکے۔حکومت کی اس پالیسی سے جو مشکلات پیدا ہوئی ہیں ان کی وجہ سے معیشت سخت بدحالی کا شکار ہو چکی ہے۔اس صورت حال کے مطالعہ سے کئی سبق سیکھے جا سکتے ہیں۔علاوہ دیگر باتوں کے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ کس طرح بعض اہم اقتصادی فیصلے ایک ایسے نظریہ کی بنیاد پر کر لئے جاتے ہیں جو خود ابھی پایہ ثبوت تک نہیں پہنچا۔حکومت نے شرح سود کو اتنے طویل عرصہ سے جو مصنوعی طور پر بڑھا رکھا ہے اس کی یہی توجیہ کی جاسکتی ہے کہ حکومت کا خیال ہے کہ شرح سود جس قدر بڑھے گی افراط زر میں اسی قدر کمی ہوگی۔برطانیہ کے موجودہ حالات میں افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کے متعلق ہمارا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس کی ذمہ داری صرف سود پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ اس کی اور بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔مثلاً معاشی نظام میں بدانتظامی یا مجموعی طور پر ناقص پالیسی۔سود کی شرح بڑھانے سے تو صرف یہ ہوا ہے کہ توجہ اصل وجوہات کی طرف سے ہٹ گئی ہے اور مورد الزام کسی اور کو ٹھہرا دیا گیا ہے۔اس حکمت عملی سے ممکن ہے کہ شروع شروع میں افراط زر کا مقابلہ کرتے وقت یوں لگے جیسے کامیابی ہو رہی ہے مگر بالآخر اس پالیسی کے ثانوی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ابھی سے ایسے طاقت ور عوامل کارفرما ہو چکے ہیں جو ان اثرات کو جنم دیں گے۔ملک میں ایک ایسا معاشی زوال پیدا ہو گا جسے سنبھالنا بہت مشکل ہوگا اور بے روزگاری میں اضافہ ہو جائے گا۔یہ کیسے مان لیا جائے کہ کنزرویٹو حکومت کو بڑے بڑے ماہرین اقتصادیات، تجربه کار مالی منصوبہ بندی کرنے والوں، بینکوں اور دانش وروں کے مشورے اور رہنمائی حاصل نہیں ہے۔سود کی اس بلند شرح کو کم کرنے میں عمداً جو تاخیر کی جا رہی ہے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ 210