اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 202

ہیں۔اس صورت حال میں تیسری دنیا کے ممالک کے لئے درحقیقت امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔اور پھر افریقہ کے بدنصیب لوگوں کے لئے تو مایوسیوں کے اندھیرے اور بھی گہرے ہو رہے ہیں۔اقتصادی اور سیاسی اعتبار سے دنیا بھر کی ترقی یافتہ قوموں کے سیاست دان مشرق بعید میں رونما ہونے والے سرمایہ دارانہ اقتصادی انقلاب کی طرف کچھ زیادہ ہی متوجہ ہیں۔مشرق بعید کے ان ممالک میں جاپان، جنوبی کوریا فارموسا ہانگ کانگ اور سنگا پور شامل ہیں اور ایسا نظر آتا ہے جیسے مشرق بعید اور مغرب ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہوں۔لیکن جہاں تک انڈونیشیا، ملائشیا، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، برما، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا اور پاکستان جیسے غریب اور ترقی پذیر ملکوں کا سوال ہے ان کا تو مغربی ممالک سے فاصلہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے ان ترقی پذیر ممالک کے سروں پر ایک پل تعمیر کیا جا رہا ہو جو مغرب اور مشرق بعید کے ملکوں کے باہمی فاصلوں کو اور بھی کم کر دے گا۔جاپان کے عظیم اقتصادی چیلنج کا مقابلہ کرنے اور اس کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو روکنے کے لئے ایک طرف جہاں اندیشہ ہے کہ مشرق بعید کے دوسرے ممالک اب امریکن سرمایہ یا ٹیکنالوجی وغیرہ سے مزید مستفید نہ ہو سکیں گے وہاں یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ مشرق بعید کے اپنے ان اتحادیوں پر اپنا انحصار اور بھی بڑھا دے گا تاکہ جاپان اور اقتصادی لحاظ سے عظیم تر متحدہ یورپ کے اقتصادی چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔یہ ساری صورت حال کرہ ارض پر بسنے والے انسان کے مستقبل کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔اس سے عالمی امن کی سب امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے اور اس بار امن کے یہ خواب سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی باہمی نظریاتی کشمکش اور رقابتوں کے باعث چکنا چور نہیں ہوں گے بلکہ اس کے عوامل کچھ اور ہوں گے۔202