اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 198
اقتصادی ترقی کے عمل میں شرکت کے لئے ترغیب موجود ہے۔اسلام کے نظام اقتصادیات میں سود کا لالچ نہ ہونے کے باعث جو سرمایہ پیدا وار کے عمل میں شامل نہیں ہوتا اور بے کار پڑا رہتا ہے اسلام نے اس کا حل ایک ٹیکس کی صورت میں پیش فرمایا ہے جسے زکوۃ کہا جاتا ہے۔یہ وہ ٹیکس ہے جو کسی آمد یا منافع پر نہیں بلکہ خود سرمایہ پر عائد کیا جاتا ہے۔پس اس طرح اسلام سود سے بھی نجات دلاتا ہے اور اشترا کی دنیا کے مخصوص مسائل سے بھی اس کا دامن پاک رہتا ہے۔اسلام کے اقتصادی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام میں بڑا واضح فرق ہے۔مؤخر الذکر نظام سے وابستہ معاشروں میں سرمایہ چند ہاتھوں میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ سود کے ذریعہ سرمایہ کو بڑھانے کا لالچ ہے۔بار بار سرمایہ کا روبار میں لگایا جاتا ہے تا کہ شرح سود سے زیادہ منافع کمایا جائے۔شرح سود سے بڑھ کر منافع حاصل نہیں ہوگا تو لازماً نتیجہ معاشی زوال کی صورت میں نکلے گا۔اسلام کے اقتصادی نظام میں ایک شخص اس ڈر سے کہ کہیں زکوۃ کے باعث اس کا مال رفتہ رفتہ ختم نہ ہو جائے لازماً اپنی فاضل رقم یا بچت کو کسی منافع بخش کاروبار میں لگائے گا تا کہ زکوۃ دینے سے مال میں جو کمی واقع ہوئی ہے وہ پوری ہو سکے۔اسلام کے نزدیک دنیا کے اقتصادی مسائل کا حل نہ تو سوشلزم میں ہے اور نہ سرمایه دارانہ نظام میں۔یہاں اس موضوع پر سیر حاصل بحث تو ممکن نہیں تاہم ہم سرمایه دارانہ نظام کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اقتصادی عدم توازن پر ایک نظر ڈالیں گے تاکہ مستقبل کے لئے کچھ سبق سیکھا جا سکے۔سرمایہ دارانہ معاشرہ کی چار خصوصیات قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات میں بڑی صراحت کے ساتھ وہ علامات بیان 198