اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 197
حکومت سرمایہ دار بن جاتی ہے اور اس پر کوئی مالی دباؤ یا پابندیاں نہیں ہوتیں اس لئے وہ کسی احتساب کے خوف کے بغیر قومی سرمایہ استعمال کر سکتی ہے۔اس کے پاس جائزہ اور نگرانی کا کوئی ایسا انتظام بھی نہیں ہوتا جو اسے اس کی ناکامیوں، غلطیوں اور معاشی ضیاع کے متعلق متنبہ کر سکے۔اس صورت حال میں ہمیشہ بہت سے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔اول یہ کہ ذاتی دلچپسی کا فقدان ہوتا ہے دوسرے یہ کہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے نفع و نقصان سے آگاہ کرنے والا کوئی نظام موجود نہیں ہوتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری اور پیداوار کا باہمی تناسب بگڑ جاتا ہے اور مالی ضیاع بڑھتا چلا جاتا ہے۔نیز یہ کہ اشتراکی نظام میں سرمایہ کی تقسیم اور فراہمی کی پالیسی پر کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔ایک سوشلسٹ حکومت کے پاس اپنی اقتصادی ترقی کی حقیقی شرح کا باہر کی دنیا کی کھلی منڈی والی معیشت کی شرح ترقی سے موزانہ کر کے جائزہ لینے کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔سوشلسٹ معاشرہ کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس میں دفاع، نگران اداروں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر نسبتاً بہت زیادہ اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔دوسرے اخراجات اگر یکساں بھی ہوں تو بھی دفاع اور امن و امان قائم رکھنے کے لئے اخراجات کا تناسب دوسرے معاشروں سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔یہ اور ایسے بعض دوسرے عوامل معیشت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔اس صورت حال میں یقینی اقتصادی تباہی کو مؤخر تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے کلیہ اور ہمیشہ کے لئے ٹالا نہیں جا سکتا۔اسلامی نظریه اشتراکی نظام میں لوگ اقتصادی ترقی کے عمل میں براہ راست اور پوری تندہی سے شرکت کی طرف مائل نہیں ہوتے لیکن اسلام میں سود کی ممانعت کے باوجود 197