اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 195

سرمایہ دارانہ نظام، اشتراکیت اور اسلام کا اقتصادی فلسفہ اسلام کے اقتصادی نظام کا سرمایہ دارانہ نظام یا سائینٹیفک سوشلزم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ نظام سائنسی تو ہے لیکن بے جا پابندیوں سے آزاد ہے، ذاتی ملکیت اور نجی کاروبار کی اجازت تو دیتا ہے لیکن لالچ اور حرص کے ہاتھوں ہونے والی لوٹ کھسوٹ کو بھی روکتا ہے۔اسطرح چند لوگوں کے ہاتھ میں دولت کے ایسے ارتکاز کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ کا ایک بڑا حصہ ایک ظالم و جابر اور بے حس استحصالی نظام کے شکنجہ میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام، اشتراکیت اور اسلام کے اقتصادی فلسفوں میں تین بنیادی فرق ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام اس نظام میں سرمایہ کی افزائش سود کے ذریعہ ہوتی ہے۔اس میں اصولی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ سرمائے کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔سود ہی کی وجہ سے سرمایہ چند ہاتھوں میں اکٹھا ہو جاتا ہے اور پھر اسی سرمایہ کی قوت سے پیداواری عمل جاری و ساری رہتا ہے۔مختصر یہ کہ سرمائے کو گردش میں رکھنے کا بنیادی محرک سود ہی ہوتا ہے۔سائلینٹیفک سوشلزم اس نظام میں اگر چہ سود بطور محرک تو موجود نہیں ہے جس سے پیداواری نظام میں سرمایہ کی گردش ہوتی رہے لیکن یہاں دراصل سرمایہ کاری کے لئے کسی ترغیب کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ سرمایہ پر حکومت کی بلا شرکت غیر اجارہ داری ہوتی ہے۔195