اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 188
ترجمہ:۔یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں (اور بے ساختہ کہتے ہیں ) اے ہمارے رب ! تو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔پاک ہے تو۔پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔اللہ تعالیٰ کے عقل مند بندوں کی صفات کے متعلق قرآن کریم یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ تخلیق حیات کے عقیدہ پر خوب غور و فکر کے بعد بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ یہ کائنات اور اس کی تخلیق بے مقصد نہیں ہو سکتی۔قرآن کریم کی یہ آیات ارشمیدس کے اس اظہار مسرت کی یاد دلاتی ہیں جب ایک انکشاف پر اس نے Eureka یعنی ” میں نے پالیا“ کا نعرہ بلند کیا تھا۔پس اسلام کا پیش کردہ معاشرتی ماحول مادہ پرستی کے ماحول سے بالکل مختلف ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسان کی پیدائش کا اعلیٰ مقصد اس راستہ پر گامزن ہونا ہے جو خالق تک پہنچاتا ہے۔عبادت کے انہی وسیع معنوں میں قرآن کریم یہ اعلان فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ (سورۃ الذاریات آیت ۵۷) ترجمہ:۔اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔عیش وعشرت کے مختلف ذرائع کا جائزہ لیں تو شاید کسی کو ان میں بظاہر کوئی ایسی مضرت نظر نہ آئے جسے ان مشاغل پر مکمل پابندی کا جواز بنایا جا سکے خصوصاً مادر پدر آزاد لوگوں کے معاشرہ میں یہ سمجھنا بے حد مشکل ہے کہ اسلام اس بارہ میں 188