اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 187
حادثات میں مالی نقصانات آگ لگنے سے ہونے والے نقصانات پر تشدد جرائم سے ہونے والے نقصانات ۴ اعشاریہ سے بلین ڈالر • اعشاریہ 3 بلین ڈالر ۱ اعشاریہ ۵ بلین ڈالر جرائم کے نتیجہ میں معاشرہ کے رد عمل پر اٹھنے والے اخراجات ۱ اعشاریہ 9 بلین ڈالر شراب نوشی سے ہونے والے کل نقصانات ۳۱ اعشاریہ 4 بلین ڈالر شراب نوشی ، جوئے بازی، موسیقی اور رقص جیسے عیش وعشرت کے ذرائع کو اکثر معاشروں میں بے ضرر سمجھا جاتا ہے۔انہیں مختلف ثقافتوں کا جزو لاینفک قرار دیا جاتا ہے۔اگر چہ مختلف معاشروں میں ان کی مختلف شکلیں ہیں مگر ان مشاغل کے بنیادی خدوخال ایک جیسے ہی ہیں۔مصوری، مجسمہ سازی اور اس قسم کے دیگر چند مشاغل کو چھوڑ کر باقی مشاغل زیادہ دیر تک ثقافت کا بے ضرر حصہ نہیں رہتے بلکہ ایک ایسا بوجھ بن جاتے ہیں جس سے معاشرہ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔معاشرہ خود اپنے رجحانات کا رخ متعین کرنے کے قابل نہیں رہتا۔شراب نوشی، جوئے بازی، موسیقی اور رقص وغیرہ کی طرف لوگ کھنچے چلے جاتے ہیں۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی سے ان سرگرمیوں کا شکار ہوتا ہے۔ایک بھیڑ چال شروع ہو جاتی ہے اور ان مشاغل میں دلچپسی ایک جنون کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اگر کوئی شخص ایسے معاشروں کو دیکھے تو شاید وہ یہ سمجھے کہ نعوذ باللہ انسانی پیدائش کی غرض وغایت ہی ایسی بے سود لذتوں کا پیچھا کرنا اور سفلی خواہشات کا غلام بن جانا ہے۔مگر قرآن کریم نے پیدائش انسانی کا یہ مقصد قرار نہیں دیا بلکہ فرماتا ہے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولِى الألْبَاب الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ فِيمَا وَقُعُودًا وَّ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ( سورة آل عمران آیات ۱۹۱ ۱۹۲) النَّارِه 187