اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 172
اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر جو وہ خرچ کرتے ہیں اس کا احسان جتاتے ہوئے یا تکلیف دیتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔اچھی بات کہنا اور معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے ایسے صدقہ سے کہ کوئی آزار اس کے پیچھے آرہا ہو۔اور اللہ بے نیاز (اور ) بردبار ہے۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر یا اذیت دے کر ضائع نہ کیا کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کی خاطر خرچ کرتا ہے اور نہ تو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ یوم آخر پر۔پس اس کی مثال ایک ایسی چٹان کی طرح ہے جس پر مٹی ( کی تہ ) ہو پھر اس پر موسلا دھار بارش برسے تو اسے چٹیل چھوڑ جائے۔جو کچھ وہ کماتے ہیں اس میں سے کسی چیز پر وہ کوئی اختیار نہیں رکھتے۔اور اللہ کا فرقوم کو ہدایت نہیں دیتا۔اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے: وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ (سورۃ الضحی آیت ۱۱) ترجمہ۔اور جہاں تک سوالی کا تعلق ہے تو اسے مت جھڑک۔بھیک مانگنا اسلام بھکاری کے ساتھ بھی عزت سے پیش آنے کی تلقین کرتا ہے اور درشتی سے بات کرنے کی سخت ممانعت فرماتا ہے۔اگر چہ بھیک مانگنے کو پسند نہیں کیا گیا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے لیکن اشد ضرورت کے وقت مانگنے کے حق کو بھی قائم رکھا گیا ہے اور کسی شخص کو ایسے مانگنے والوں کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں 172