اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 170

آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔اگر یہ تعلیم دی جاتی کہ مومن ایک سطحی انداز میں مصنوعی عجز و انکسار دکھاتے ہوئے لوگوں کے شکریہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کریں گویا شکر یہ قبول کرنا ان کی شان کے منافی ہے تو اندیشہ تھا کہ اس طرح منافقت کو فروغ ملے۔جب ایک شخص رسما یہ کہتا ہے کہ شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں تو درحقیقت وہ جانتا ہے کہ اس طرح وہ اس شخص کی نظروں میں اور بھی زیادہ معزز ہو جائے گا جس پر اس نے احسان کیا۔اس کے برعکس اسلام کی تعلیم کہیں زیادہ حسین اور پاکیزہ شان کی حامل ہے۔احسان کرنے والے کو یاد دلایا گیا ہے کہ وہ اپنے مال کو بیک وقت دو خریداروں کے ہاتھ فروخت نہیں کر سکتا۔نیکی کا کام یا تو رضائے الہی کی خاطر ہوسکتا ہے یا پھر غیر اللہ کی خوشنودی کے لئے ہو سکتا ہے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ دونوں قسم کی نیتیں ایک ہی وقت میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔خدا کا ایک مخلص بندہ جب کسی ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرتے وقت یہ کہتا ہے کہ میری نیت تو درحقیقت صرف اللہ کی رضا کا حصول ہے تو اس طرح وہ اس ضرورت مند کو بھی یاد کروا رہا ہوتا ہے کہ اس کا حقیقی محسن وہ نہیں بلکہ اللہ کی ذات ہے۔ظاہر ہے کہ سوچ کے اس انداز سے اس محتاج انسان کے دل میں کسی قسم کے احساس کمتری کے پیدا ہونے کا امکان نہیں رہتا۔نیکی کے اجر کی توقع کسی انسان سے نہ رکھنا اسلامی تعلیم کے مطابق دوسرے سے اچھے اخلاق سے پیش آنا تہذیبی اقدار کے زیر اثر اختیار کی ہوئی ایک سطحی عادت کے رنگ میں نہیں ہونا چاہئے بلکہ تمام اخلاق کی جڑیں ایمان باللہ میں پیوست ہونی چاہئیں۔محتاجوں کو صدقہ و خیرات اس گھٹیا نیت سے نہیں دینا چاہئے کہ اس کے بدلہ میں ان سے بھی کبھی کوئی فائدہ حاصل کریں 170