اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 169

چنانچہ اس اصول کی روشنی میں جو کچھ بھی وہ دوسروں پر خرچ کرتا ہے وہ کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کا شکر ادا کرتا ہے جو خود اس کی ذات پر ہیں۔اس شاندار فکر وعمل کی بنیا د قرآن کریم کی ایک ابتدائی آیت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ و بما رزقنهم ينفقون ( سورة البقرة آیت ۴) ترجمہ۔اور جو کچھ ہم انہیں رزق دیتے ہیں وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔پس ایک سچا مومن اگر یہ نہیں چاہتا کہ کسی احسان کے بدلہ میں لوگ اس کا شکریہ ادا کریں تو کسی کسر نفسی یا ظاہری تہذیب کی وجہ سے نہیں ہوتا۔وہ تو حقیقتاً اس بات کو اپنا جزو ایمان سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے جس شخص پر احسان کیا ہے اس پر اگر کسی کا شکر ادا کرنا واجب ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی مومن جو ایمان کے مفہوم سے واقف ہیں جب کوئی ان کے احسانات کا شکریہ ادا کرے تو وہ بے حد شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔قرآن مجید یہ اعلان کرتا ہے۔05 لیک ور ووه وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيمًا وَّاسِيْرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (سورۃ الدھر آیات ۹ - ۱۰) ترجمہ۔اور وہ کھانے کو، اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے ،مسکینوں اور قتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔ہم تمہیں محض اللہ کی رضا کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم ہر گز نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔محض کھانا کھلا دینا ہی کافی نہیں بلکہ زندگی کے آلام و مصائب اور بھوک کی اذیت کو جانتے ہوئے ، لوگوں کے دکھوں میں شریک ہو کر اور کسی شکریہ کی توقع کے بغیر کھانا کھلانا ایک حقیقی مومن کے شایان شان عمل ہے۔مذکورہ بالا آیات کا حسن 169