اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 167
تو وہ کہہ دیں کہ جو کچھ ہمیں دیا گیا ہے وہ ہمارا حق تھا اس لئے ہمیں کسی قسم کا شکریہ ادا کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔اگر یہ رجحان عام ہو جائے تو اس کے تو یہی معنی ہوں گے کہ شائستگی اور اچھے اخلاق معدوم ہو گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم احسان قبول کرنے والے کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ شکر گزار بنے۔احسان خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اسے چاہئے کہ اپنے محسن کا شکریہ ادا کرے۔ایک مومن کو بار بار یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے انسان سے محبت نہیں کرتا۔إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللهَ غَنِى عَنْكُمْ وَلاَ يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرِ وَإِنْ تَشْكُرُوا۔قف ط و يَرْضَهُ لَكُمْ وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا ط 2280 وہ ( سورة الزمر آیت ۸) كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِه ترجمہ۔اگر تم انکار کرو تو یقیناً اللہ تم سے مستغنی ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔پس وہ تمہیں ان اعمال سے باخبر کرے گا جو تم کیا کرتے تھے۔یقیناً وہ سینوں کے رازوں کو خوب جانتا ہے۔آنحضرت شکر گزاری کی اہمیت پر مزید زور دیتے ہوئے مومنوں کو یاد دلاتے ہیں۔مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ (سنن الترمذی ، ابواب البرّوا الصلة - باب ماجاء في الشكر لمن احسن الیک) یعنی جو شخص انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔167