اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 166

ضرورت مندوں کے لئے ایک حق ہے۔اس آیت میں لفظ حق کے مفہوم کو پوری طرح سمجھا نہیں گیا۔یہ لفظ جہاں صدقہ و خیرات کرنے والوں کو بتاتا ہے کہ محتاجوں اور غریبوں سے تمہارا کیا رویہ ہونا چاہئے وہاں یہ لفظ خیرات لینے والوں کی سوچ کو بھی صحیح سمت دیتا ہے۔خیرات دینے والے کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ جو مال وہ غرباء کو دے رہا ہے وہ درحقیقت اس کا مال نہیں ہے۔نیز لفظ حق میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ خیرات قبول کرنے والے کو شرمندہ ہونے یا کسی قسم کی ذہنی الجھن کا شکار ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسے یہ حق دیا ہے کہ وہ اچھے اور باعزت طریق پر زندگی بسر کرے۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جس معاشرہ میں کچھ لوگ بالکل مفلس اور قلاش بن کر رہ جائیں یا زندہ رہنے کے لئے بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں وہ معاشرہ صحت مند نہیں کہلا سکتا۔اس میں یقیناً کوئی ایسی خرابی ہو گی جس سے یہ بھیانک صورتحال پیدا ہوئی۔ایک صحت مند معاشی نظام میں کوئی شخص اتنا غریب نہیں ہونا چاہئے کہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو اور زندگی کی بقاء کے لئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔چنانچہ صدقہ و خیرات کے حکم سے اگر امکانی طور پر بعض لوگوں کی خود داری اور عزت نفس پر حرف آ سکتا ہے تو قرآن کریم نے اس کے ازالہ کا سامان بھی فرما دیا ہے اور اس طرح غرباء کو ہر قسم کی شرمندگی اور خفت سے بچالیا ہے۔شکر گزاری کا جذبہ غرباء کی مدد کو ان کا حق سمجھا جائے تو بین السطور یہ خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ لوگ الٹا احسان پر ناشکری کرنے لگیں۔ان پر احسان کیا جائے 166