اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 164

مشینی انداز میں نہیں لیتا۔اسلام کا سماجی نظام انسانی نفسیات کے طبعی قوانین سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔دیگر باتوں کے علاوہ اسلام ایک ایسے ماحول کو پیدا کرتا ہے جس میں اپنے حقوق کے مطالبہ کی جگہ دوسروں کے حقوق کا احترام پیدا ہو جاتا ہے۔ایک حقیقی اسلامی معاشرہ کے لوگ دوسروں کے دکھ درد کے بہتر شعور اور احساس کی وجہ سے اپنے حقوق سے زیادہ ان تقاضوں کی فکر کرتے ہیں جو معاشرہ ان سے کرتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو بار بار یہ نصائح فرمائی ہیں کہ مزدوروں کو ان کے حق سے زیادہ دو۔مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔اپنے ماتحتوں سے محنت و مشقت کے ایسے کام نہ لوجن کی خود تم میں تاب نہیں۔جہاں تک ممکن ہو اپنے نوکروں کو ایسا ہی کھانا کھلاؤ جیسا تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو اور ویسا ہی کپڑا پہناؤ جیسا تم خود پہنتے ہو۔کمزور پر کسی قسم کی زیادتی مت کرو ورنہ تم خدا کے سامنے جواب دہ ہو گے۔کبھی کبھی اپنے نوکروں کو اپنے ساتھ دستر خوان پر بٹھاؤ اور خود ان کے سامنے کھانا پیش کرو تا کہ تم جھوٹے تکبر اور نخوت سے بچ سکو۔تنگ دستی کے باوجود اعلیٰ مقاصد کے لئے خرچ کرنا قرآن کریم نے انسانی عزت اور وقار کو قائم کرنے پر انتہائی زور دیا ہے۔غریبوں اور حاجت مندوں کی ضرورتیں ان کی عزت نفس کو قائم رکھتے ہوئے کس طرح پوری کرنی چاہئیں۔اس کے متعلق مندرجہ ذیل آیت ایک ضابطہ اخلاق فراہم کرتی ہے۔اس میں ان صفات کا ذکر ہے جو احسان کرنے والوں میں ہونی چاہئیں 164