اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 152

کیلئے دنیا کو کس نظر سے دیکھنا ضروری ہے اور ظالم کی منطق کیا ہوتی ہے یہ سب چیزیں بھی اسرائیل دنیا میں برآمد کرتا ہے۔(صفحہ ۲۴۸) امید واثق ہے کہ بالآ خر صیہونیت کے جنگی نعروں پر اسرائیلی قیادت کے سنجیدہ طبقہ کی آواز غالب آجائیگی۔اسرائیلی مصنفین میں سے غالباً حرکابی (Harkabi) ہی ہے جسے سب سے زیادہ معقولیت پسند اور معتدل مزاج کہا جا سکتا ہے۔وہ صیہونی انتہا پسندوں کے جارحانہ طرز عمل کو صرف ناپسند ہی نہیں کرتا بلکہ اسے خود صیہونی مفادات کے حق میں خودکشی کے مترادف قرار دیتا ہے۔اگر چہ دیگر یہودی مفکرین اور دانشور حرکابی کے نظریات سے پورے طور پر متفق نہیں ہیں لیکن بلاشبہ کسی مسئلہ کے متعلق حرکابی کا نقطہ نظر زیادہ عملی اور حقیقت پسندانہ ہوتا ہے۔خصوصا اس نے امن کے لئے جو تجویز پیش کی ہے اس میں عربوں کے لئے امید کی ایک کرن ضرور دکھائی دیتی ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی بھی لحاظ سے اور کسی بھی سطح پر بنی نوع انسان کی تقسیم اور امتیازی سلوک سے کچھ لوگ وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن بالآخر اس کے دور رس نتائج سب کے لئے لازما برے ہی ہوا کرتے ہیں۔عصر حاضر کے اس تناظر میں اسلام ایک ایسا واضح اور امید افزا پیغام دیتا ہے جو موجودہ حالات میں بڑا مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔اسلام نسل پرستی اور طبقاتی منافرت کی پرزور مذمت کرتا ہے اور فساد کی کوئی بھی شکل کیوں نہ ہو اسے قابل مذمت قرار دیتا ہے۔اس مضمون سے متعلق قرآن کریم کی بہت سی آیات میں سے چند ایک قبل ازیں پیش کی جا چکی ہیں۔درج ذیل آیت کریمہ میں بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو اللہ تعالیٰ کا نور کہا گیا ہے۔ایسا نور جو نہ صرف مشرق کیلئے ہے اور نہ ہی صرف مغرب کیلئے بلکہ مشرق و مغرب دونوں کی یکساں بھلائی کیلئے آسمان سے اتارا 152