اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 150

اسرائیل طاقتور ہوتا چلا جائے۔وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل اوزی (UZI) جیسے مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر تیسری دنیا کی ہر بنیاد پرست تحریک اور طاقت پر فتح پاکر سیاہ فام اور زرد فام باشندوں کو تہہ تیغ کرتا پھرے۔یہی وجہ ہے کہ ارجنٹائن کے فوجی جرنیل اور پیراگوئے (Paragoy) کے کرنل اور جنوبی افریقہ کے سفید فام بریگیڈیر اسرائیلیوں سے محبت کرتے ہیں“۔(صفحہ ۲۱۸) امریکہ میں ۱۹۷۰ ء سے ” تیسری دنیا مردہ باد کا جو نعرہ بلند ہونا شروع ہوا ہے وہ اسرائیلی عزائم ہی کی صدائے بازگشت ہے۔اس تحریک کے علمبردار Daniel Patrick Moynihan اور Jean Kirk Patrick اسرائیل کو اپنا اعتمادی اور روح رواں سمجھتے ہیں“۔(صفحہ ۲۲۲) صیہونیت کے دائیں بازو کے دوسری جنگ عظیم سے قبل کے ایک لیڈر ولا ڈیمیر جا یونسی (Vladimir Jabotinsky) واشگاف الفاظ میں صیہونیت اور سامراجیت کے باہمی اتحاد کی باتیں کیا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ: بحیرہ روم اور اس کے ارد گرد کا سارا علاقہ یوروپین اقوام کے قبضہ میں رہنا چاہئے۔یہ ہمارا عزم صمیم ہے مشرق و مغرب کے مابین ہر جھگڑے میں ہم ہمیشہ مغرب کا ساتھ دیں گے کیونکہ منگولوں کے ہاتھوں خلافت بغداد کی تباہی کے بعد گزشتہ ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے مشرق کی نسبت مغرب ہی بہتر تہذیب و تمدن اور ثقافت کا گہوارہ رہا ہے۔۔۔۔اور آج ہم اس تہذیب و تمدن کے سب سے اہم علمبردار ہیں۔ہم قیامت تک عرب تحریک کی حمایت نہیں کر سکتے۔یہ تحریک ایک اسرائیل دشمن تحریک ہے اسے پہنچنے والی ہر زک اور ہر شکست ہمارے لئے دلی مسرت کا باعث ہے۔“ [1984 ,Brenner صفحات 75 تا 77 ] (صفحہ ۲۲۷) 150