اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 148

معنوں میں دیکھا جائے تو اس سے مراد وہ گروہی تعصبات ہونگے جو ہمیشہ عدل و انصاف کے راستہ میں حائل ہو جایا کرتے ہیں۔امریکی اور روسی بلاکوں کے مابین محاذ آرائی میں اتنی تیزی سے جو حالیہ کمی آئی ہے وہ دنیا کو ایک بالکل نئے دور کی طرف لے کر جا رہی ہے۔یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس آنے والے دور میں ہر قسم کے اختلافات مٹ جائیں گے لیکن افہام و تفہیم کے نتیجہ میں دنیا کا ایک نیا نقشہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔جوں جوں نظریاتی اختلافات کی شدت میں کمی آرہی ہے بین الاقوامی سطح پر پہلے سے موجود کچھ اور اختلافات اب ابھر کر سامنے آئیں گے اور ان میں لازماً شدت پیدا ہوگی۔جب سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکی نظام کی رقابتیں عروج پر تھیں تو مشرق و مغرب کی روایتی تقسیم نسبتاً ثانوی حیثیت اختیار کر گئی تھی اور یہ جھگڑے پس منظر میں چلے گئے تھے۔لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔اب مشرق اور مغرب کی وہی پرانی تقسیم ترقی یافتہ مغرب اور پسماندہ مشرق کے درمیان ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آئے گی۔مشرقی یورپ کے آزاد ہونے والے ممالک اور خود روس رفتہ رفتہ سرمایہ دارانہ ممالک کے رنگ میں رنگین ہو جائیں گے اور بالآخر انہی کا حصہ بن کر تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو اس وقت سرمایہ دار ممالک کر رہے ہیں۔اگر چه بیرونی منڈیوں پر قابض ہونے اور ان پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے نئی نئی رقابتیں معرض وجود میں آئیں گی لیکن بحیثیت مجموعی مغرب پہلے سے کہیں بڑھ کر ایک طاقتور سیاسی و اقتصادی وحدت بن کر ابھرے گا اور مشرقی بلاک بھی بالآخر یورپ میں ہی مدغم ہو جائے گا اور یوں مشرق و مغرب کی روایتی تقسیم اور بھی واضح اور گہری ہو جائے گی۔مزید یہ کہ ایک نئی طرز کے سوشلزم کی وجہ سے قومیں افراد اور طبقات کی جگہ لے 148