اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 133

دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنا اور دل میں لا تعداد حسرتیں پال لینا اسلامی تعلیم کی رو سے ناجائز ہے۔انسان کو ضبط نفس سکھانے اور خواہشات کو محدود کرنے کے سلسلہ میں یہ تعلیم اپنے اندر ایک بہت اہم پیغام رکھتی ہے۔اسلام نہ تو زندگی سے فرار سکھاتا ہے اور نہ ہی ایسی رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے کہ تمام طبعی خواہشات کو مارکر نروان حاصل کیا جائے۔نروان کے فلسفہ کے مطابق خواہشات ہمیں مادیت میں جکڑ دیتی ہیں اور اس کا غلام بنا دیتی ہیں۔بالفاظ دیگر نجات کا ذریعہ یہی ہے کہ انسان اپنی تمام خواہشات کو کچل ڈالے۔اسلام اس فلسفہ کو رد کرتا ہے۔اسلام کے نزدیک یہ انسان کا بنایا ہوا ایک غیر طبعی فلسفہ ہے جو زندگی کے مسائل کا حقیقی حل نہیں ہے۔نروان کا تصور اطمینان اور سکینت سے زیادہ موت کے قریب ہے۔اس کے برعکس اسلام نے ایک بالکل مختلف حل پیش کیا ہے جس کے مطابق طبعی خواہشات کو کچل کر کوئی شخص زندگی کے راز کو نہیں پاسکتا۔اسی طرح معاشرتی امن کے قیام کے لئے جو بہت سے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو کم کر کے ان کو نظم و ضبط کا پابند بنائے اور انہیں قابو میں رکھے۔یہ ناممکن ہے کہ انسان اپنی تمام خواہشات کی بے محابا تسکین سے حقیقی اطمینان اور سکینت حاصل کر لے۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے انسان جس تیز رفتاری سے خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے خواہشات اس سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے آگے بھاگتی ہیں۔خواہشات کے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلام کے تجویز کردہ اقدامات ممکن ہے بظاہر چھوٹے نظر آئیں مگر در حقیقت بہت اہم اور بہت مؤثر ہیں۔مثال کے طور پر قرآن مجید فرماتا ہے۔و لیک -٥-٥ 1-0 وَلَا تَمَدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَامَتعنا به أَزْوَاجًا مِنهم زَهْرَةَ الْحَيوةِ الدُّنْيا لِنَفْتِنَهم - b 10- w 200- فِيهِ وَ رزق ربک خیر و ابقی (سورۃ طہ آیت ۱۳۲ ) 133