اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 129
دلجمعی سے اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے دعا کرتے ہیں تو اس دعا کا اثر لازما آپ کے کردار اور طرز عمل پر پڑتا ہے۔مثال کے طور پر ہم میں سے بہت سے ہیں جو ہمیشہ سچ بولنا چاہتے ہیں مگر ان کی یہ خواہش کبھی کبھار ہی عمل کا روپ دھارتی ہے۔لیکن جو لوگ پورے اخلاص اور صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ انہیں ایک سچا انسان بنادے ان کی دعا ئیں ان کے کردار پر ان لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں جو سچا انسان بننے کی محض ایک مبہم سی خواہش رکھتے ہیں۔خلوص دل سے دعا کرنے والا اپنے عمل میں بہتری پیدا کرنے کی سچی کوشش کرتا ہے۔تربیت اولاد کی دعا کے بعد اگر کوئی شخص اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کرے گا جو اس دعا کے ساتھ مطابقت اور مناسبت نہ رکھتا ہو تو یہ ایک عجیب و غریب اور نا قابل فہم سی بات ہوگی۔قرآن کریم خاص طور پر نوجوان نسل کے حقوق اور ان کی تربیت سے متعلق ذمہ داریوں کے بارہ میں متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ : وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ 280 اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (سورة الحشر آیت ۱۹) ترجمہ۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اس آیت میں والدین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ ایسی اولاد کی تربیت کے سلسلہ میں عائد ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام رہیں گے اور ایک ایسی نسل اپنے پیچھے چھوڑیں گے جس کا کردار قابل مذمت ہوگا تو وہ اس کے لئے خدا کے سامنے جوابدہ ہونگے۔اسی طرح والدین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں۔اس 129