اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 126
صرف اپنے والدین پر خرچ کریں بلکہ ان عزیزوں اور رشتہ داروں پر بھی خرچ کریں جو والدین کے بعد زیادہ قریبی ہیں۔یہ خرچ اس رنگ میں ہونا چاہئے جس سے ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو بلکہ باہمی پیار اور محبت میں اضافہ ہو۔11-0- وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرَكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَمَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السبيل « وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لاَ يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (سورۃ النساء آیت ۳۷) ترجمہ۔اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقیناً اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر (اور ) شیخی بگھارنے والا ہو۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے۔اگر عصر حاضر کا معاشرہ قرآن کریم کی اس تعلیم سے نصیحت حاصل کرلے تو آج کے بہت سے مسائل جو در حقیقت ترقی یافتہ معاشرہ کے چہرہ پر بدنما داغ سے کم نہیں ختم ہو جائیں گے۔عمر رسیدہ لوگوں کے لئے الگ گھروں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی سوائے چند ایسے بدقسمت بوڑھوں کے جن کی دیکھ بھال کرنے والے ان کے کوئی قریبی رشتہ دار موجود نہ ہوں۔اسلامی معاشرہ میں والدین اور بچوں کے درمیان باہمی محبت کے تعلق پر اس قدر اور بار بار زور دیا گیا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ بچے اپنے والدین کو بڑھاپے میں اپنے عیش وعشرت کی خاطر بے سہارا چھوڑ دیں۔126