اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 125
اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔اور ان دونوں کے لئے رحم سے عجز کا پر جھکا دے اور کہہ کہ اے میرے ربّ! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی۔زیر بحث موضوع پر ان آیات کی اہمیت واضح ہے۔ان میں یہ تعلیم دی گئی ہے که بنی نوع انسان کو چاہئے کہ توحید باری تعالیٰ کے بعد اپنے عمر رسیدہ والدین سے پیار اور محبت اور حسنِ سلوک کو باقی سب امور پر ترجیح دیا کریں۔یہ بزرگ اپنی عمر کے ایک مشکل دور میں سے گزر رہے ہیں۔اس عمر میں بعض اوقات ان کا رویہ بڑا صبر آزما اور ناگوار ہوسکتا ہے۔ایسی صورت میں یہ آیات ہمیں حکم دیتی ہیں کہ ان کے خلاف معمولی سا اظہار نفرت بھی نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی نا پسندیدگی کا کوئی کلمہ منہ سے نکلنا چاہئے۔والدین کی ان ناگوار باتوں کے باوجود ان کے ساتھ انتہائی عزت و احترام سے پیش آنا چاہئے۔آنے والی نسلوں کا جانے والی نسل کے ساتھ ادب و احترام کا ایک زندہ اور مضبوط تعلق ہونا چاہئے۔اس پر زور بھی اسی لئے دیا گیا ہے تا کہ دونوں نسلوں کے درمیان کسی قسم کا بُعد پیدا نہ ہونے پائے ورنہ پرانی نسل جن اعلیٰ اخلاقی اقدار پر قائم تھی وہ نئی نسل میں کبھی بھی پوری طرح منتقل نہیں ہوسکتیں۔اس لئے اسلام کی معاشرتی تعلیم اور اس کا فلسفہ یہ ہے کہ کوئی نسل بھی اپنے سے پہلی اور بعد میں آنے والی نسل کے مابین کسی قسم کا فاصلہ پیدا نہ ہونے دے۔گویا اسلامی تعلیم کے مطابق جریشن گیپ (Generation Gap) کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ہے۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے اسلام میں خاندان کا تصور صرف ایک گھر کے افراد تک محدود نہیں ہے۔درج ذیل آیت میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ نہ 125