اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 113
بظاہر یہ ایک لطیفہ نظر آتا ہے لیکن غور سے دیکھا جائے تو محض لطیفہ ہی نہیں بلکہ بعض حقائق کو خوب بے نقاب بھی کرتا ہے۔یہ لطیفہ ایک افسوس ناک معاشرتی صورت حال کا آئینہ دار ہے۔اس کے ذریعہ ہم اسلام کے انداز فکر اور جدید معاشرہ کی سوچ کے مابین موازنہ کر سکتے ہیں۔صرف بے فکرے طلباء کی مجالس ہی نہیں بلکہ بڑے سنجیدہ مزاج اور معزز لوگوں کا بھی یہ وطیرہ ہے کہ وہ تمسخر کے ساتھ اس اسلامی حکم کے متعلق اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا کرتے ہیں اور اسے کوئی غیر شائستہ اور دل آزار بات نہیں سمجھتے۔کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ مجھے فرینکفورٹ کے ایک سینئر جج صاحب کا ایک خط موصول ہوا۔میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔بہت دانا، کھلے ذہن کے مالک، شائستہ اور اہم آدمی ہیں۔انہوں نے اپنے خط میں اسلام میں تعدد ازدواج کی محدود اجازت پر اعتراض کیا اور وہ بھی اپنی بات کو ایک بھونڈے مذاق کے ذریعہ واضح کرنے کی خواہش کو دبا نہیں سکے۔یا ممکن ہے یہ محض میرا تاثر ہو۔بہر حال ایک لمحہ کے لئے مجھے خیال آیا کہ میں بھی ان کے مذاق کا جواب Forefathers والے لطیفہ کے ساتھ دوں لیکن الحمد للہ کہ مجھے صحیح فیصلہ کی توفیق ملی اور میں نے ایسا نہیں کیا۔جو مختصر جواب میں نے انہیں ارسال کیا وہ یہ تھا کہ اول تو اسلام میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی یہ اجازت عام نہیں ہے بلکہ بعض مخصوص حالات سے تعلق رکھتی ہے جب معاشرہ کی صحت اور عورتوں کے حقوق ہر دو کی حفاظت کے لئے اس اجازت کا استعمال ضروری ہو جائے۔دوم یہ کہ قرآن کریم ایک معقولی اور منطقی کتاب ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ یہ مسلمانوں کو کسی ایسی بات پر عمل کرنے کی ہدایت کرے جس پر عمل ناممکن ہو۔اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کو کم و بیش مساوی تعداد میں پیدا کیا ہے۔پس کیسے ممکن ہے کہ اسلام جیسا معقول مذہب جو بار بار اس امر پر زور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول اور اس کے فعل 113