اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 104

رفتہ رفتہ ایک سراب بن کر رہ جاتی ہے۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایسے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کس کی خاطر زندگی بسر کریں اور کس امید پر زندگی کے ماہ و سال کاٹیں۔اب اگر ہم نے ان پیارے گھروں کو پھر سے قائم کرنا ہے جو کبھی پہلے ہوا کرتے تھے، اس باہمی اعتماد کو بحال کرنا ہے جو گھر کے افراد کو یک جان کر دیتا ہے اور اس اعتبار کو قائم کرنا ہے جو باہمی امن وسکون اور محبت کو جنم دیتا ہے تو اس کے لئے کئی اقدامات کرنے پڑیں گے۔مگر شاید اب دیر ہو چکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔اس ضمن میں اسلام کا پیغام بڑا واضح ہے۔اسلام خاندانی نظام کی حفاظت یا جہاں کہیں بھی یہ نظام ٹوٹ کر بکھر چکا ہو اسے از سر نو قائم کرنے کے لئے واضح پروگرام رکھتا ہے۔اسلام کے نزدیک زندگی کے ہر دائرہ میں نظم و ضبط کو سکھانے کے لئے ضروری ہے کہ سمجھ بوجھ ، حکمت و دانائی اور محکم ایمان و اعتقاد کو کام میں لایا جائے اور معاشرہ میں پائے جانے والے عدم توازن کو دور کیا جائے۔پردہ اور اس کی حقیقت اسلام میں پردہ کے معاشرتی نظام کو مغرب میں لوگوں نے بالکل غلط سمجھا ہے۔ان کے نزدیک اس طرح مردوں اور عورتوں میں ایک جنسی امتیاز روا رکھا گیا ہے۔غلط فہمی ایک حد تک عالم اسلام میں اسلام کی اصل تعلیم پر غلط رنگ میں عمل پیرا ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔اس غلط فہمی کی دوسری وجہ مغربی ذرائع ابلاغ کا منفی کردار ہے جنکی یہ عادت بن چکی ہے کہ جہاں کہیں کوئی بدعملی اور بدکرداری دکھائی دی اسے فوراً اسلام کی طرف منسوب کر دیا۔حالانکہ کسی یہودی، عیسائی، بدھ یا ہندو کے غلط کردار کو اس کے مذہب کی طرف کبھی منسوب نہیں کیا جاتا۔104