اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 103

تکتے کہ وہ بھی حسرتوں اور محرومیوں کی آگ میں جل رہے ہوں لیکن غرباء کی حالت تو بہت ہی ابتر ہوتی ہے۔زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل کرنا بھی ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے کجا یہ کہ وہ امراء کی سی عیاشی کے متحمل ہوسکیں۔ٹی وی اور اخبارات وغیرہ میں جب اس قسم کی شاہانہ زندگی کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں تو یہی غرباء ہیں جن کے احساسات مجروح ہوتے ہیں اور جن کی آرزوؤں کا دم گھٹنے لگتا ہے۔یہ غریب لوگ اپنے بوسیدہ مکانوں میں بیٹھے ہر روز عالی شان گھروں، شاندار باغات، پرتعیش کاروں، ہیلی کا پڑوں، ذاتی جہازوں، نوکروں اور خدمتگاروں کی فوج کو حیرت اور رہتے ہیں۔جب یہ غریب لوگ ہالی وڈ اور بیورلے ہلز (Beverley Hills) کا طرز زندگی ، ناچ گانے اور رقص و سرود کی محفلیں، دھوم دهام۔سے منعقد ہونے والی تقریبات یا قمار خانوں میں زندگی کے رنگ ڈھنگ دیکھتے ہیں تو ان کے دل حسرتوں اور محرومیوں کی آماجگاہ بنتے چلے جاتے ہیں۔وہ سراب جن کی منظرکشی ٹی وی ڈراموں میں کی جاتی ہے غریبوں کے خواب بن جاتے ہیں کیونکہ ٹی وی اور اس کے ڈرامے ہی تو ہیں جو یہ بے بس اور بیچارے لوگ دیکھ سکتے ہیں۔دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ امیر ترین لوگوں میں سے بھی صرف گنتی کے چند لوگ ہی ہیں جو اس جنت ارضی کو حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن یہ غریب لوگ عیش وعشرت کے یہ مناظر دیکھ کر اپنے فلاکت زدہ ماحول سے ہی بددل ہو جاتے ہیں۔اپنے گھروں میں ان کے لئے کوئی کشش باقی نہیں رہتی۔ایک طرف وہ اعلیٰ تہذیب و تمدن سے محروم ہوتے ہیں اور دوسری طرف دن رات سنہری خوابوں میں کھوئے رہتے ہیں۔اور یوں ان کی اپنی زندگی کے حقائق بے معنی ہوتے چلے جاتے ہیں۔بے سود لذتوں اور پر فریب خوابوں پر تعمیر ہونے والے معاشرہ کا انجام کار حاصل یہی ہے۔گھر میں امن وسکون اور ایک دوسرے کے لئے محبت و اخلاص کی گرمجوشی 103