اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 102

کاروباری کمپنیوں کا دولت کے انبار اکٹھے کرنے کا واحد مقصد پورا ہوتا رہے ایسا معاشرہ یہ سب کچھ تو حاصل کر لیتا ہے مگر اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔اطمینان قلب اٹھ جاتا ہے، اعلیٰ قدریں ختم ہو جاتی ہیں اور معاشرہ کا مجموعی امن وسکون برباد ہو جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ عیش پرستی اور دل کا اطمینان دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ایک مادہ پرست معاشرہ جن اعلیٰ اقدار کو نظر انداز کرتا ہے اسلام انہیں کے قیام پر زور دیتا ہے۔لذت کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے لیکن اسے ذہنی سکون اور معاشرتی امن کی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔ایسے تمام رجحانات جن کے باعث رفتہ رفتہ خاندان ٹوٹ جایا کرتے ہیں اور خود غرضی، غیر ذمہ داری، بے ہودگی، تشدد اور جرائم کو فروغ ملتا ہے انکی اسلام نے حوصلہ شکنی کی ہے۔اسلامی فلسفہ جس معاشرتی ماحول کو جنم دیتا ہے اس میں اور مادہ پرستی کے ماحول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ اس حقیقت کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں کہ خواہشات کو ہوا دینے یا کھلی چھٹی دینے سے انہیں ذہنی اور قلبی اطمینان ہرگز نصیب نہیں ہوسکتا۔اور دنیا کا کوئی معاشرہ بھی خواہ وہ اقتصادی لحاظ سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو بے لگام خواہشات اور ہوس پرستی کا ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا۔دنیا کے متمول ترین معاشروں میں بھی آسودہ حال لوگوں کے ساتھ ساتھ مفلوک الحال لوگ بھی موجود ہیں۔اور ایسے لوگوں کی تعداد جو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔اس کے بالمقابل ایسے خوشحال لوگ تو بہت کم ہوا کرتے ہیں جو اپنی ہر خواہش پوری کر سکیں۔دراصل ہر خواہش کی تسکین ویسے بھی ممکن نہیں کیونکہ دولت کے ساتھ ساتھ خواہشات بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں اس لئے امیر ترین لوگوں کے بھی سب خواب پورے نہیں ہو سکتے۔عین ممکن ہے 102