اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 101

انسانی نفسیات اور جنس سے متعلق اپنا مخصوص نظریہ قائم کیا۔اگر فرائڈ کی سوچ کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ امر اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے طاقتور اور خطر ناک محرکات کو بلا روک ٹوک کھل کھیلنے کا کوئی موقع نہ دیا جائے۔ورنہ ظاہر ہے کہ انسانی ذہن ضرور کسی نہ کسی غلط رستہ پر چل نکلے گا۔افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اسلام کے پیش کردہ معاشرتی ماحول اور اس کی خوبیوں کو سمجھنا تو در کنار عصر حاضر کا معاشرہ اس سلسلہ میں کوشش کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔مگر یاد رہے کہ انسان نہ تو اللہ تعالیٰ کے فعل یعنی قوانین قدرت کو شکست دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کے قول یعنی کلام الہی کو جھٹلا سکتا ہے۔خواہ وہ تقدیر کے خالق اور مالک اور مقتدر بالا رادہ ہستی پر ایمان رکھے یا نہ رکھے۔اور خواہ انسان کلام الہی کے مطابق اپنے سماجی کردار کی تشکیل پر آمادہ ہو یا نہ ہو یہ بات یقینی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل کو جھٹلا نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کے فعل اور اس کے کلام کو تب ہی برحق سمجھا جائے گا جب دونوں میں کامل موافقت اور ہم آہنگی ہو۔پس انسان کا ہر وہ معاشرتی رویہ جو کلام الہی سے متصادم ہو لا ز ما تباہی اور بربادی پر منتج ہوگا۔انسان بلا روک ٹوک ہمیشہ عیش وعشرت کی زندگی بسر نہیں کر سکتا خواہ وہ اس کے لیئے کتنی ہی خواہش کیوں نہ کرے۔اسے زیادہ سے زیادہ یہی اختیار دیا گیا ہے کہ بعض چیزوں کو پسند کرے اور بعض کو ترک کر دے۔وہ معاشرہ جو افیون اور دیگر منشیات کو اپنا لیتا ہے اور زندگی کے حقائق اور ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر لیتا ہے وہ معاشرہ جو شہوات، عیاشی اور سنسنی خیزی کے جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ معاشرہ جہاں عمد لوگوں کے ذوق بگاڑے جاتے ہیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ عیش وعشرت کا دلدادہ بنایا جاتا ہے تا کہ نت نئے آلات و سامان عیش وعشرت کی مصنوعی مارکیٹ پیدا ہو سکے اور هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ کی ہوس بڑھتی چلی جائے تا کہ اس سے بڑی بڑی 101