اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 100
عفت اور یا کدامنی اسلام کے نزدیک معاشرہ میں خواتین کی عزت و احترام کے قیام کیلئے یہ امر از حد ضروری ہے کہ ایسے تمام اقدامات کئے جائیں جو عفت وفاشعاری ضبط نفس اور پاکیزہ زندگی کو فروغ دیں۔جنسی بے راہ روی کے خطرات سے پوری طرح محفوظ رہتے ہوئے پاک و صاف زندگی بسر کرنا اسلامی معاشرہ کا ایک بہت اہم وصف ہے۔اسلام کی پیش کردہ سماجی تعلیمات کا یہ پہلو خاندانی نظام کی بقا اور حفاظت کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہی آج کے دور کی ایک اہم ترین ضرورت بھی ہے۔اسلام فیملی یونٹ کو محض میاں بیوی کے تعلق تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اسے وسعت دینا چاہتا ہے۔ایک ایسا خاندان جس میں پیار اور محبت کا تصور محض جنسی خواہشات کی تکمیل تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اس میں دیگر خونی رشتوں کی سی گہری اور لطیف رفاقتیں بھی موجود ہوں۔حیرت ہے کہ عصر حاضر کے دانشور کیوں اس خطرناک انسانی کمزوری سے ناواقف ہیں کہ اگر معاشرہ میں جنسی لذات کے حصول کی کھلی چھٹی مل جائے تو پھر بے حیائی کا عفریت اعلیٰ اور لطیف اقدار کا خون چوس چوس کر بڑھنا اور پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔سگمنڈ فرائڈ (Sigmond Freud) ایک ایسے ہی معاشرہ کی پیداوار ہے۔وہ ہر انسانی جذبہ اور عمل کو جنسی پیمانہ سے پرکھتا ہے۔اس کے نزدیک ماں اور بچے کا مقدس ترین رشتہ بھی جنسی جذبات ہی سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح باپ اور بیٹی کے رشتہ کو بھی کوئی تقدس حاصل نہیں بلکہ یہ بھی جنسی خواہشات ہی کا شاخسانہ ہے۔بقول اس کے انسان کا تقریبا ہر عمل جسکا اسے شعوری طور پر علم ہو یا نہ ہو اسکی گہری لاشعوری جنسی خواہشات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔میں نہیں جانتا کہ فرائڈ کے اپنے زمانہ میں بھی آج کے معاشرہ کی سی جنسی بے راہ روی عام ہو چکی تھی یا نہیں پھر بھی اتنا فساد ضرور تھا جس کی روشنی میں اس نے 100