اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 98
اسلامی معاشرہ کے بنیادی اصول اس موضوع پر قرآن کریم کی مرکزی آیت یہ ہے۔10-- إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَايُّ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ( سورة النحل آیت ۹۱) ج ترجمہ۔یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو۔اس آیت کا پہلا حصہ سماجی نظام سے زیادہ معاشی امور سے متعلق ہے۔اور حصہ معاشرہ کے محروم طبقات سے سلوک کے بارے میں عدل احسان اور ایتائے ذی القربی کے اسلامی تصور کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔آیت کے دوسرے حصہ کا تعلق اس سماجی نظام سے ہے جو اسلام بہر صورت قائم کرنا چاہتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ہر اس غلط کام سے روک دیا ہے جسے بالا تفاق ساری دنیا میں غلط سمجھا جاتا ہے۔مثلاً بدخلقی، کسی کی عزت پر حملہ، تو ہین اور درحقیقت وہ تمام سماجی برائیاں جن کی کسی مذہبی تعلیم کے حوالہ کے بغیر وسیع تر انسانی معاشرہ میں بالاتفاق مذمت کی جاتی ہے۔اسی طرح اسلام ہر اس طرز عمل اور رجحان کو مسترد کرتا ہے اور اس کی سختی سے مذمت کرتا ہے جو بدنظمی ، بغاوت اور تشدد پر منتج ہو۔اس سیاق وسباق میں ہر وہ بلا جواز حرکت بغاوت سمجھی جاتی ہے جو کسی بھی قائم اور مستحکم نظام کو منہدم کرنے کے لئے کی جائے۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن کریم میں جب بھی عربی لفظ ”بغی“ استعمال ہوا ہے اس کا اطلاق صرف مسلح یا سیاسی بغاوت پر ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ معاشرہ کی ارفع و اعلیٰ روایات، اخلاقی اقدار اور مذہبی تعلیمات کے خلاف سر اٹھانے پر بھی اطلاق پاتا ہے۔98