اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 97

کے ہاتھوں اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ہوائیں اسے اڑائے پھرتی ہیں۔مگر اس کے برعکس ایک صالح نظام اس شجرہ طیبہ کی طرح ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے قائم ہیں اور اس کا تنا بلند اور شاخیں آسمان کی پاک فضاؤں اور وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔یہ درخت آسمانی روشنی اور نور سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے اور ہر موسم میں عمدہ پھل لاتا ہے۔قرآن کریم مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ ہستی باری تعالیٰ پر ایک پختہ اور مضبوط ایمان رکھتے ہیں اور ان کے تمام اخلاق اور کردار کی جڑیں ایمان باللہ کی زمین میں پیوست ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اخلاق کا تصور اس قدر کامل ہے کہ وہ سماجی، مذہبی اور نسلی سطح پر کوئی امتیاز روا نہیں رکھتا۔وہ راہنما اصول جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اطلاق پاتا ہے مندرجہ ذیل آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے: ه و وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّه فَاعْبُدُهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَيْهِ۔لیک وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (سورۃ ہود آیت ۱۲۴) ترجمہ۔اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کا ہے اور اسی کی طرف معاملہ تمام تر لوٹایا جاتا ہے۔پس اس کی عبادت کر اور اس پر تو کل کر۔اور تیرا رب اس سے غافل نہیں ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا۔الَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ، تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ (سورة الاعراف آیت ۵۵) ترجمہ۔خبردار! پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکومت بھی۔بس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہوا جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ط اسلام کا پیش کردہ یہ فلسفہ اللہ تعالیٰ کی کامل حاکمیت کے تصور سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔97 40