اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 96
اس کی چوٹی آسمان میں ہے۔وہ ہر گھڑی اپنے رب کے حکم سے اپنا پھل دیتا ہے۔اور اللہ انسانوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔اس آیت کریمہ میں شجرہ یعنی درخت کا لفظ ایک علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم نے بچے اور پاک فلسفہ کے بالمقابل غلط اور جھوٹے فلسفہ کا ذکر کرتے ہوئے ایسی ہی علامتی زبان استعمال کی ہے۔شجرہ طیبہ کے بالمقابل شجرہ خبیثہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اس شجرہ خبیثہ اور ایمان نہ لانے والوں کی حالت کا ذکر اگلی دو آیات میں آیا ہے۔فرمایا: و ن وَمَثَلُ كَلِمَةِ خَبِيثَةِ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ اجْتَتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارِ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ الله الظَّلِمِينَ لا وَيَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءُ ( سورۃ ابراہیم آیات ۲۷ - ۲۸) ترجمہ۔اور نا پاک کلمہ کی مثال نا پاک درخت کی سی ہے جو زمین پر سے اکھاڑ دیا گیا ہو۔اس کے لئے (کسی ایک مقام پر ) قرار مقدر نہ ہو۔اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مستحکم قول کے ساتھ دنیا اور آخرت میں استحکام بخشتا ہے جبکہ اللہ ظالموں کو گمراہ ٹھہراتا ہے۔اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔کلمہ کا لفظ یہاں ایک فلسفہ اور نظام کے معنوں میں استعمال ہوا ہے بالکل ایسے ہی جیسے کلمہ کا یہ لفظ وسیع تر معنوں میں انجیل یوحنا کی پہلی آیت میں استعمال ہوا ہے۔ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا“ ( یوحنا بابا آیت ا) ان جھوٹے فلسفوں اور نظامہائے فکر کا انجام بھی لازما اس شجرہ خبیثہ کی طرح ہی ہوتا ہے جو زندگی کے جہاد میں ناکام رہتا ہے اور بالآ خر تند و تیز ہواؤں اور طوفانوں 96 96