اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 95
جان سکتا ہے کہ یہ شخص شدید بیمار ہے۔بعینہ آج کے معاشرہ میں بیماری کے جملہ آثار اور مرض کی تمام علامات صاف دکھائی دے رہی ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول کس قدر صداقت پر مبنی ہے۔ان کے پھلوں سے تم ان کو پہچان لو گے۔کیا کانٹے دار جھاڑیوں سے کبھی انگور توڑے گئے ہیں اور کیا اونٹ کٹاروں سے کبھی انجیر میں بھی لی گئی ہیں۔اسی طرح اچھا درخت اچھے پھل لاتا ہے اور برا درخت برے پھل لاتا ہے۔اچھا درخت برا پھل نہیں لاسکتا نہ برا درخت اچھا پھل متی باب ۷ آیات ۱۶ تا ۱۸) لا سکتا ہے " آج جو کڑوے پھل کھانے کو مل رہے ہیں ان کے خلاف لوگ اپنے غم وغصہ کا اظہار تو کرتے ہیں یہاں تک کہ چیخ چیخ کر ان کے گلے بیٹھ جاتے ہیں مگر وہ کڑوے پھل دینے والے درخت کو بدلنا نہیں چاہتے۔وہ نہیں چاہتے کہ اس کی جگہ میٹھے پھل دینے والا درخت لگائیں۔ان کے نزدیک اگر پھل کڑوا ہے تو درخت کا کوئی قصور نہیں۔اسلام کا معاشرتی نظام یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس شجرہ خبیثہ کو اکھاڑ کر اسکی بجائے ایک طیب اور صحت مند درخت لگایا جائے۔قرآن مجید کی رو سے جب آدم کو ایک درخت کا پھل کھانے سے روکا گیا تو اس سے بعینہ یہی مراد تھی۔قرآن کریم فرماتا ہے۔الَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةِ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِى أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَ يَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذكَرُونَ (سورۃ ابراہیم آیات ۲۵ - ۲۶) ترجمہ۔کیا تو نے غور نہیں کیا کہ کس طرح اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک کلمہ طیبہ کی ایک شجرہ طیبہ سے۔اس کی جڑ مضبوطی سے پیوستہ ہے اور 95 95