اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 90
قوانین فطرت کے غیر شعوری عمل میں کارفرما نظر آتا ہے۔زندہ اجسام میں بی تخلیق انسانی سے پہلے کے ارتقائی عمل کو اسی اصول نے آگے بڑھایا ہے جو نیم شعوری یا نیم فعال حالت میں جاری رہا ہے۔ارتقائی عمل کو بالکل نچلی سطح سے لیکر انسان کی سطح تک دیکھا جائے تو یہ ادنی شعور سے اعلیٰ شعور کی جانب ایک سفر دکھائی دیتا ہے۔ارتقائی سائنس کی اصطلاحات میں بات کی جائے تو جرم اور سزا اور نیکی اور جزا کے اصول کو بقائے اصلح (Survival of the fittest) کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ارتقاء کے سارے عمل میں یہی وہ قوت محرکہ ہے جس نے مسلسل اس سفر کو آگے بڑھایا ہے۔یہ بالکل نا قابل فہم بات ہے کہ ارتقاء کا یہ سفر جب انسان یعنی تخلیق کی اعلیٰ ترین شکل میں اپنی تکمیل کو پہنچا اور شعور کی سطح تصور کی ہر چھلانگ سے بھی بلند تر ہوگئی تو اچانک جرم وسزا کا سابقہ اصول بے کار اور معطل ہو کر رہ گیا۔اگر تخلیق کا کوئی بلند مقصد ہے تو پھر احتساب کی بھی کوئی شکل ضرور ہونی چاہئے ورنہ یہ سارا کاروبار عبث اور بے معنی ٹھہرے گا۔یہ انتہائی حیران کن امر ہے کہ بعض اوقات عظیم ترین دانشور بھی ایسی واضح اور بولتی ہوئی صداقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔نظریہ اضافت کو پیش کرنے والے عظیم سائنس دان البرٹ آئن سٹائن کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔وہ کہتے ہیں۔میں ایک ایسے خدا کا تصور نہیں کر سکتا جو اپنی ہی مخلوق کو جزاء یا سزا دیتا ہے۔ایک ایسا خدا جس کے اغراض و مقاصد ہم انسانوں کے اغراض و مقاصد کی طرح ہوں۔(جن کی تکمیل کیلئے اس نے جزاء سزا کا نظام جاری کیا ہو ) مختصر یہ کہ میں ایک ایسے خدا کو تسلیم نہیں کر سکتا جو انسانی کمزوریوں کا عکس اپنے اندر لئے ہوئے ہو۔(البرٹ آئن سٹائن) 90 90