اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 89

یہ ہے وہ صورتحال جو آج کے مہذب اور ترقی یافتہ کہلانے والے معاشروں میں ہمیں بالعموم نظر آتی ہے۔اخلاقی اقدار کے کمزور پڑنے سے رفتہ رفتہ قانون سازی اور حکومتی انتظامات بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔جب معاشرہ میں نہ تو کسی الہی قانون کو قبول کیا جائے اور نہ ہی دائمی اخلاقی قدروں اور ارفع روایات کو تسلیم کیا جائے اور ان کی خلاف ورزی زندگی کا معمول بن جائے تو پھر اخلاق کے قائم کرنے کیلئے کی جانے والی قانون سازی میں بھی نرمی اور لچک پیدا ہو جاتی ہے اور یوں اخلاق کی عمارت کی بنیاد ہی متزلزل ہو جاتی ہے۔گزشتہ چند صدیوں میں اس سلسلہ میں کی جانے والی قانون سازی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو حقیقت خوب کھل کر سامنے آجاتی ہے۔کبھی آسکر وائلڈ کا وہ زمانہ بھی تھا جب ہم جنس پرستی کو ایک انتہائی سخت قابل سزا جرم سمجھا جاتا تھا۔وہ دن بیت گئے جب عفت اور پاکیزگی کو صرف ایک نیکی ہی نہیں بلکہ سماجی عزت و وقار اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا اور عصمت پر حرف آنے پر سختی سے محاسبہ کیا جاتا تھا۔اب تو یہ حالت ہے کہ جُرم کو مُجرم ہی نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اس کے ارتکاب پر خطرہ کے الارم بجنے لگتے ہیں۔درحقیقت اصل مسئلہ یہی ہے کہ جرم کی تعریف ہی سرے سے بدل رہی ہے۔جس فعل کو کل تک جرم قرار دیا جاتا تھا آج اسے جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔کل تک جو جرم شرم و حیا اور سرزنش کے خوف سے چھپ کر کیا جاتا تھا آج نہ صرف سب کے سامنے کھلے بندوں علانیہ ہو رہا ہے بلکہ اس پر فخر کیا جاتا ہے۔پس اگر یہ فلسفہ درست ہے اور زندہ رکھے جانے کے قابل ہے تو ماننا پڑے گا کہ مذہبی اور اخلاقی فلسفے بالکل فرسودہ اور بے کار ہو چکے ہیں اور آج کے دور میں ان کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا۔جرم کی سزا اور نیکی کی جزا کا آفاقی اصول ذی روح اور غیر ذی روح دونوں کیلئے ایک مشترک قوت محرکہ کی حیثیت رکھتا ہے۔بے جان اشیاء میں یہ اصول 89