اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 58
حضرت کرشن علیہ السلام کے متعلق تقریر کر سکتا ہے۔ایک ہند و حضرت عیسی علیہ السلام اور بدھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیرت بیان کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس صدی کی تیسری دہائی میں جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ایسی مفید اور مقبول کا نفرنسیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔(د) مندرجہ بالا تجویز (ج) کے متعلق کسی قسم کے استثناء کے بغیر اس امر کا خیال رکھا جانا بے حد ضروری ہوگا کہ مختلف مذاہب اور فرقوں کے مابین تبادلہ خیالات کے وقت مذہبی بحث و مباحثہ کے تقدس کی پوری حفاظت کی جائے۔مذہبی تبادلہ خیالات کی یہ کہہ کر مذمت نہیں کی جانی چاہئے کہ اس سے نقض امن کا اندیشہ ہوگا۔اگر بحث کا طریق اور انداز غلط ہے تو صرف اس غلط طریق اور غلط انداز کی مذمت ہونی چاہئے نہ کہ بحث کو فی ذاتہ غلط قرار دے دیا جائے۔اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار ایک انتہائی اہم بنیادی انسانی حق ہے۔بقائے اصلح یعنی موزوں اور اعلیٰ چیز کی بقا کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ کسی قیمت پر بھی اس اصول سے سمجھوتہ نہ کیا جائے۔(ر) اختلافات کے دائرہ کو محدود کرنے اور باہمی اتفاق کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اس اصول کو تسلیم کرنا بے حد ضروری ہے کہ تمام مذاہب اپنی بحث کو اپنے اور دوسرے مذاہب کے بنیادی تک محدود رکھیں گے۔قرآن کریم کا یہ اعلان کہ تمام مذاہب اپنے آغاز میں یکساں تھے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں۔تمام مذاہب کو اپنے اور تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کی خاطر قرآن کریم کے اس اعلان کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے اور اس کی سچائی جانچنے کے لئے تحقیق کرنی چاہئے۔(۵) مشترکہ مفاد کے تمام منصوبوں اور سکیموں میں تعاون کو فروغ دیا جائے اور اس کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے مثلاً رفاہ عامہ کے منصوبوں پر عیسائی، مسلمان، ہندو اور یہودی سب مل جل کر کام کر سکتے ہیں۔58