اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 48
بڑے بہتان کی بات کہنے کی وجہ سے۔اس آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ کے یہود کے اس مذموم اور توہین آمیز موقف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔یہود نے یہ الزام لگایا تھا کہ حضرت مریم نعوذ باللہ پاک دامن نہیں ہیں لہذا حضرت مسیح کی ولادت بھی قابل اعتراض ہے۔یہود کا یہ الزام ان دونوں مقدس وجودوں کی شان میں سخت تو ہین اور گستاخی پر مشتمل ہے۔یہود کے اس الزام کو اس آیت میں بہتان عظیم یعنی بہت ہی بڑا اتہام قرار دیا گیا ہے اور اس انتہائی اذیت ناک گستاخی اور توہین کی بہت سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اس گستاخی کی کوئی جسمانی سزا تجویز نہیں کی گئی ہے۔یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ یہود کی مذمت تو اس لئے کی گئی کہ انہوں نے حضرت مریم اور حضرت مسیح علیہما السلام کی توہین کی تھی مگر عیسائیوں کی مذمت خود اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے پر کی گئی ہے۔عیسائیوں کی گستاخی یہ ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ خدا کے ہاں اس کی بیوی کے ذریعہ جو انسانوں میں سے تھی ایک بیٹا پیدا ہوا۔قرآن مجید نے عیسائیوں کے اس الزام کو شر عظیم قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود کسی قسم کی کوئی جسمانی سزا مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی انسانی عدالت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ خدا کی شان میں ایسی سخت گستاخی کرنے والوں کو کوئی سزا دے۔قرآن مجید کی وہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے پر مسیحیوں کی مذمت کی گئی ہے یہ ہے۔مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلا لا بَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ الَّا كَذِبًاه ( سورة الكهف آیت ۶ ) ترجمہ۔ان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں ، نہ ہی ان کے آباؤ اجداد کو تھا۔48