اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 311
ترجمہ:۔کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور اس نے اپنی نعمتیں تم پر ظاہری طور پر بھی پوری کیں اور باطنی طور پر بھی۔اور انسانوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارہ میں بغیر کسی علم یا ہدایت یا روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقويم (سورۃ التین آیت ۵) ترجمہ :۔یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ارتقائی حالت میں پیدا کیا۔قرآن کریم کی بہت سی دیگر آیات یہاں تک کہ بعض چھوٹی سورتیں بھی سب کی سب اسی مضمون کے لئے وقف ہیں۔ان سے پتہ چلتا ہے کہ انسان ایک عالم صغیر ہے جس پر تمام مخلوقات نے اپنے اثرات مرتب کیے ہیں یہاں تک کہ بعید ترین ستاروں نے بھی اس عالم صغیر یعنی انسان پر اپنے اثرات ڈالے ہیں مگر انسان اور باقی کائنات کے مابین یہ تعلق غلام اور آقا کا نہیں بلکہ آقا اور غلام کا ہے۔آقا اپنے ان غلاموں کے آگے سر نہیں جھکاتے بلکہ غلام ان کی خدمت میں کمر بستہ رہتے ہیں۔پس انسان اس ساری کائنات کا آتا ہے لیکن غلام ہے صرف اس ذات کا جو اس ساری کائنات کی خالق و مالک ہے۔اب دیکھئے کہ اسلام کا یہ فلسفہ دیگر کئی مذاہب کے فلسفوں سے کس قدر مختلف ہے جو صرف بتوں کی عبادت ہی نہیں سکھاتے بلکہ نیچر کی عبادت کی کئی شکلیں بھی ان میں پائی جاتی ہیں۔ان مذاہب کی تعلیمات کے مطابق تو یوں لگتا ہے جیسے سورج ، چاند، ستارے، درخت ، بجلی ، طوفان، سمندر یہاں تک کہ گائے، سانپ اور پرندے ایک پہلو سے انسان سے بھی اعلیٰ مقام اور مرتبے پر فائز ہیں۔انسان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ ان چیزوں کو معبود تسلیم کر کے ان کی عبادت کرے کیونکہ بقول ان کے ان سب کو انسان پر ایک قسم کی فضیلت حاصل 311