اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 302

نے چھینتے ہوئے کہا کہ میں اس کامیابی پر لعنت بھیجتا ہوں اگر کوئی میرا سینہ چیر کر دیکھ سکے تو اسے اندر صرف ایک بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے دکھائی دیں گے۔اس تلخ حقیقت کا کچھ لوگ تو اعتراف کر لیتے ہیں مگر کچھ نہیں کرتے لیکن فطرتِ انسانی کو کون شکست دے سکتا ہے۔ایک شخص دولت کا انبار تو لگا سکتا ہے اور تعیش کے ذرائع تک رسائی بھی حاصل کر لیتا ہے لیکن یہ افسوسناک حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے کہ شاید ہی چند ایک امیر لوگ ایسے ہوں گے جنہیں حقیقی راحت اور اطمینان میتر ہو۔ان کی حالت کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا ہے: ن وبل لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةِ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهُ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ مل أَخْلَدَهُ كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ وَمَا أَدْرَكَ مَا الْحُطَمَةُ نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ ، الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مَوْصَدَةٌ هِ فِي عَمَدٍ سَمَدَدَةِ (سورة الهمزة آيات ۲ تا ۱۰) ترجمہ:۔ہلاکت ہو ہر غیبت کرنے والے سخت عیب جو کے لئے جس نے مال جمع کیا اور اس کا شمار کرتا رہا۔وہ گمان کیا کرتا تھا کہ اس کا مال اسے دوام بخش دے گا۔خبردار! وہ ضرور حطمہ میں گرایا جائے گا۔اور تجھے کیا بتائے کہ حطمہ کیا ہے؟ وہ اللہ کی آگ ہے بھڑکائی ہوئی جو دلوں پر لپکے گی۔یقیناً وہ ان کے خلاف بند رکھی گئی ہے ایسے ستونوں میں جو کھینچ کر لمبے کیے گئے ہیں۔جب تک انسان کے اس فطری جذبہ کی تسکین نہیں ہوتی کہ وہ نیک بنے نیک اعمال بجالائے اور پاکیزہ زندگی بسر کرے اسے سچا اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔اعزہ واقرباء کے ساتھ محبت ایک مربوط خاندانی نظام اور سماجی امن کے قیام کے لئے اعزہ و اقرباء سے 302