اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 299

میرے خطاب کا آخری حصہ جو انفرادی امن سے متعلق ہے کسی بھی طرح کم اہمیت کا حامل نہیں ہے۔معاشرہ پر امن ہو یا پر آشوب، فرد اس کی تشکیل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔اب تک ہم نے معاشرہ کے ان مذہبی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی خد و خال کا جائزہ لیا ہے جن کی تشکیل اور تہذیب اسلام کرنا چاہتا ہے۔ایک عمارت کی تعمیر میں جس طرح عمدہ اینٹوں کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے اسی طرح اسلام کے نزدیک ایک اچھے معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں افراد کے اعلیٰ کردار اور اوصاف کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے۔یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے جس پر قرآن کریم میں اوّل سے آخر تک بحث اور راہنمائی موجود ہے۔اسلام جو اعلیٰ اخلاق اور اوصاف معاشرہ کے ہر فرد میں پیدا کرنا چاہتا ہے ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔مسابقت في الخيرات اسلام نے الہی تعلیم کے مطابق انسانی خواہشات کی تہذیب و تعدیل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ابھارا بھی ہے تا کہ مکمل توازن اور اعتدال قائم کیا جا سکے۔ایسے توازن کے بغیر معاشرتی امن کا حصول ناممکن ہے۔اسلام ایسی خواہشات کو فروغ دیتا ہے جن کی تکمیل کسی فرد کی مالی حیثیت پر منحصر نہ ہو اور ہر حیثیت کے لوگ ان خواہشات کو بلا خرچ یا بہت معمولی خرچ سے پورا کر سکیں۔دوسروں سے ممتاز دکھائی دینا اور عوام کے معیار زندگی سے بلند ہونا ایک طبیعی جذبہ ہے۔تاہم دوسروں سے آگے نکلنے کا یہ طبعی رجحان اگر مناسب اور جائز حدود سے تجاوز کر جائے اور بے لگام ہو جائے تو ایک غیر صحتمند رجحان اور جنون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔مثال کے طور پر حسد یا ناجائز ذرائع کے استعمال۔ނ 299