اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 275

ہیں۔خاص طور پر رومی سلطنت میں عیسائیت کے پہلے تین سو سالوں میں خصوصاً یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ عیسائی اپنے مذہب کے تو وفادار ہیں مگر سلطنت کے غدار ہیں اسی کا نتیجہ تھا کہ ابتدائی دور کے عیسائی اپنے ہی گھر میں انتہائی بہیمانہ اور غیر انسانی مظالم کا شکار بنتے رہے۔ان پر یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ وہ غدار ہیں اور قیصر روم کے وفادار نہیں ہیں۔چرچ اور ریاست کے مابین کشمکش نے تاریخ یورپ کی تشکیل میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔مثال کے طور پر نپولین بونا پارٹ نے رومن کیتھولک چرچ پر الزام لگایا کہ یہ لوگوں کو ملک کا غدار بناتا ہے۔اس نے اہل فرانس پر خوب اچھی طرح واضح کر دیا کہ انہیں سب سے پہلے فرانسیسی عوام اور حکومت کا وفادار بننا پڑے گا اور کسی ویٹیکن پوپ کو فرانس میں رہنے والے رومن کیتھولکس کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی رومن کیتھولکس کو ریاست کے معاملات میں مداخلت کی اجازت ہوگی۔حالیہ تاریخ میں جماعت احمدیہ کو انہی وجوہات کی بناء پر پاکستان میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پاکستان میں طویل ترین عرصہ تک حکومت کرنے والے فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں تو یہاں تک ہوا کہ حکومت نے احمدیوں کے خلاف بزعم خود ایک قرطاس ابیض شائع کر دیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ احمدی نہ تو اسلام کے وفادار ہیں اور نہ ہی پاکستان کے۔یہ وہی پرانا جنون ہے جو آج چند نئے سروں میں سمایا ہوا ہے۔وہی آگ ہے جو آج کچھ اور سینوں میں بھڑک رہی ہے۔کچھ ہی عرصہ پہلے بدنام زمانہ سلمان رشدی کے معاملہ میں بھی یہی ہوا۔برطانیہ اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کو اسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے ملک کے نہیں بلکہ ثمینی کے وفادار ہیں۔اگر چہ اس آگ کے شعلے بہت زیادہ تو نہیں پھیلے لیکن ایسی صورتحال میں جو خطرات پوشیدہ ہیں انہیں 275