اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 274

ہو جاتے ہیں۔رائے دہندگان ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ اسمبلیوں میں مولوی ہی مولوی نظر آئیں۔نفاذ شریعت کی تحریک زوروں پر ہو تو بھی بمشکل پانچ سے دس فیصد مولوی انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن ملاں کی حمایت حاصل کرنے کے شوق میں نفاذ شریعت کا وعدہ کر کے سیاست دان ایک مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔وہ خوب سمجھتے ہیں کہ قانون ساز اسمبلیوں کے ذریعہ شریعت کا نفاذ اجتماع نقیضین کے مترادف ہے۔اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے (جس سے ایک مسلمان انکار نہیں کر سکتا ) تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ قانون کی تعریف اور تفہیم کا حق صرف مولویوں اور فرقہ پرست علماء کو حاصل ہو جائے گا۔اس صورتحال میں قانون ساز اداروں کا سارا عمل یکسر بے معنی اور بے مصرف ہو کر رہ جائے گا۔آخر اراکین پارلیمنٹ کا کام صرف یہ تو نہیں کہ جہاں ملاں انگلی رکھے آنکھیں بند کر کے دستخط کر دیا کریں۔المیہ یہ ہے کہ نہ تو سیاست دانوں نے اور نہ ہی دانشمندوں نے کبھی سنجیدگی سے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کریم حقیقتا کس طرز یا طرز ہائے حکومت کو پیش فرماتا ہے یا تسلیم کرتا ہے۔کیا مذہب کا وفادار مملکت کا غدار ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے قول (یعنی مذہب) اور اس کے فعل ( یعنی فطرت ) میں ہرگز کوئی تضاد نہیں ہو سکتا۔یہ ممکن ہی نہیں کہ فطرت انسانی میں تو وطن کی محبت کا جذبہ پایا جائے مگر مذہب اس کے خلاف تعلیم دے اسلامی تعلیم کے مطابق مذہب اور ملک کے ساتھ وفاداری میں ہرگز کوئی ٹکراؤ نہیں ہو سکتا۔لیکن یہ مسئلہ صرف اسلام سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں کئی مملکتیں اس مسئلہ سے دو چار رہی 274