اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 226
تعالیٰ کے ایک فرستادہ حضرت شعیب علیہ السلام نے جب مدین کے لوگوں کو یہ تعلیم دینے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح اپنی دولت کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کن کن طریقوں سے بچنا چاہئے تو ان کی قوم نے انہیں مذمت کا نشانہ بنایا۔قَالُوا يَشُعَيْبُ أَصَلوتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَّتْرَكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَانَشَؤُا إِنَّكَ لَأَنْتَ الْعَلِيْمُ الرَّشِيدُه (سورة هود آیت ۸۸) ترجمہ:۔انہوں نے کہا اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم اسے چھوڑ دیں جس کی ہمارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے یا ہم اپنے اموال میں وہ (تصرف نہ ) کریں جو ہم چاہیں۔یقیناً تو ضرور بڑا بردبار ( اور ) عقل والا ( بنا پھرتا ) ہے۔سادہ طرز زندگی اسلام ایک سادہ طرزِ زندگی کو پیش کرتا ہے۔فضول خرچی سے منع کرتا ہے مگر دولت کو خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ہے۔وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا ( سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۰) ترجمہ :۔اور اپنی مٹھی ( بخل کے ساتھ ) بھینچتے ہوئے گردن سے نہ لگالے اور نہ ہی اسے پورے کا پورا کھول دے کہ اس کے نتیجہ میں تو ملامت زدہ (اور) حسرت زدہ ہو کر بیٹھ رہے۔لک وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطِيْنِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (سورۃ بنی اسرائیل آیات ۲۷۔۲۸) 226