اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 165

اور انہی صفات کے حامل لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کی آیت میں بخشش اور مغفرت کے انعام کا ذکر کیا ہے۔الله الله الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ سو و وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِين (سورۃ آل عمران آیت ۱۳۵) ترجمہ :۔(یعنی) وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔غرباء کے لئے خرچ کرنا۔b صدقہ و خیرات کے جو معنی عام طور پر سمجھے جاتے ہیں اس کے دو پہلو ہیں۔ایک طرف خیرات کرنے والے کی خوب تعریف و توصیف ہوتی ہے تو دوسری طرف خیرات لینے والے کو اگر بے عزتی کا نہیں تو کم از کم خفت کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے۔محض خیرات لینے کی وجہ سے وہ شخص اپنے مقام سے گر جاتا ہے اور اس کی عزت میں کمی آجاتی ہے۔اسلام نے ایک انقلابی رنگ میں صدقہ و خیرات کے اس تصور کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔قرآن کریم کی ایک آیت میں اس امر کا نہایت دلآویز تجزیہ پیش کیا گیا ہے کہ کیوں معاشرہ میں کچھ لوگ بے حد امیر ہوتے ہیں اور کچھ انتہائی غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔فرمایا و فِي أَمْوَالِهِم حَق للسّائِلِ وَالْمَحْرُومِ O (سورۃ الذاریات آیت ۲۰) ترجمہ۔اور ان کے اموال میں سوال کرنے والوں اور بے سوال 165