اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 151
" تیسری دنیا کی آزادی کا تصور صیہونیت کی بنیادوں کے لئے ایک خطرہ ہے۔انسانی حقوق کے تصورات اسرائیل کے سیاسی نظام کے لئے بے حد خطرناک ہیں۔فلسطینیوں کے ساتھ کی گئی نا انصافیاں اتنی واضح اور نمایاں ہیں کہ اس معاملہ کو سرعام زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔اسرائیل جو کچھ تیسری دنیا میں کر رہا ہے اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کی توجہ فلسطینیوں کے حقوق کی طرف ہو جائے گی۔جب انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے معاملات زیر بحث آتے ہیں تو اسرائیلی ساری دنیا کو منافق قرار دینے اور برا بھلا کہنے میں ذرہ بھر تامل نہیں کرتے۔اس لحاظ سے ان میں اور جنوبی افریقہ کے سفید فام باشندوں میں کوئی فرق نہیں " ہے۔(صفحات ۲۳۶ ۲۳۷) منیلا (فلپائن) سے ٹیگو سی گالیا Tegucigalpa ( ہونڈوراس Honduras) تک اور نمیبیا میں ونڈھوئیک (Windhoek) تک مسلسل جاری جنگ میں جو کہ در حقیقت ایک عالمی جنگ ہے اسرائیلی ایجنٹوں کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔آخر وہ کونسا دشمن ہے جس کے خلاف اسرائیل برسر پیکار ہے؟ یہ تیسری دنیا میں بسنے والی مخلوق ہے جنہیں ہرگز یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ ان کا بر پا کردہ کوئی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہو۔“ (صفحہ ۲۴۳) اسرائیل اپنے مستقبل کے سہانے خواب صرف اسی وقت تک دیکھ سکتا ہے جب تک عرب دنیا اور تیسری دنیا کے ممالک باہمی تفرقہ کا شکار ہیں اور کمزور ہیں۔اس صورت حال میں کوئی تبدیلی اسرائیل کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔(صفحہ ۲۴۷) اسرائیل کی برآمدات میں صرف ٹیکنالوجی، اسلحہ اور تجربہ کار ماہرین ہی نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی ذہنیت بھی شامل ہے۔کامیاب تسلط جمانے 151