اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 124

اس کے بوڑھے دادا کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تھا بہت دکھ محسوس ہوتا تھا۔دادا کے ساتھ یہ بدسلوکی روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔آہستہ آہستہ اسے ایک اچھے اور آرام دہ سونے کے کمرہ سے نکال کر ایک تنگ اور غیر آرام دہ کمرہ میں منتقل کر دیا گیا۔ایک مرتبہ غیر معمولی طور پر شدید سردی پڑی تو بوڑھے دادا نے شکایت کی کہ میرا کمرہ بہت ہی سرد ہے اور لحاف اتنا ہلکا ہے کہ رات بھر سردی سے ٹھٹھرتا رہتا ہوں اور آرام سے سو نہیں سکتا۔بچے کا باپ یہ سن کر پھٹے پرانے بے کار پڑے ہوئے کپڑوں میں سے کوئی فالتو کمبل تلاش کرنے لگا۔یہ منظر دیکھ کر بچے نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا یہ سارے ہی پھٹے پرانے کپڑے دادا کو نہ دیں، کچھ ان میں سے میرے لئے بھی رہنے دیں تا کہ جب آپ بوڑھے ہو جائیں تو میں یہ کپڑے آپ کو دے سکوں۔بچے کے اس معصومانہ اظہار ناراضگی میں آج کے عمر رسیدہ لوگوں کے سارے دکھ سمائے ہوئے ہیں۔جہاں ایک مسلمان معاشرہ میں عمر رسیدہ بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کی مثالیں ستثنا کا حکم رکھتی ہیں وہاں جدید معاشروں میں بوڑھوں کے ساتھ ان کے عزیزوں کی طرف سے حسن سلوک کی مثالیں بھی شاذ کی حیثیت رکھتی ہیں اور تعداد میں گھٹتی چلی جارہی ہیں۔قرآن کریم نے تو مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ : وَقَضَى رَبُّكَ إِلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَا لِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ ވ ވ ސ دوره أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّهُمَا رُوِ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا سکس وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا (سورۃ بنی اسرائیل آیات ۲۵،۲۴) ترجمہ۔اور تیرے رب نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو۔اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی ، تو انہیں 124